مجالس صدیق جلد 1 |
§فادات ۔ |
|
خواہ تھوڑی دیر مطالعہ کروں ، ایک ہی نظر دیکھوں لیکن مطالعہ ضرور کرتا ہوں ، معلوم نہیں لوگ بغیر مطالعہ کیسے پڑھالیتے ہیں ، یہ بھی دیانت کا مسئلہ ہے، حقوق العباد میں سے ہے، پڑھانے والے کو اپنی طرف سے پوری کوشش کرنا چاہئے، اپنی طرف سے کسر نہ اٹھا رکھے، بغیر سمجھے اور بغیر مطالعہ کے پڑھانا حق العبد کو ضائع کرنا ہے، میں سفر سے آتا ہوں تو دوبجے رات کو مطالعہ کرتا ہوں ، ۴۰ سال پڑھانے کے بعد بھی مجھے مطالعہ کی ضرورت پیش آتی ہے، پتہ نہیں لوگ کیسے مطالعہ نہیں کرتے ، نئی نئی کتابیں نیا نیا سال بغیر مطالعہ کے پڑھاتے ہیں ، اگر کتاب پڑھائی ہوئی بھی ہو تو بھی کم از کم ایک نظر تو دیکھ ہی لینا چاہئے، بعض لوگ مطالعہ توجہ سے نہیں کرتے ، ادھر ادھر دیکھا اور درجہ میں پہنچ گئے اور آئیں بائیں ہانک دیا، یہ بھی دیانت کے خلاف ہے اس میں حقوق العباد کے ضائع کرنے کا گناہ ہوگا۔اسباق میں طلبہ کے علاوہ دوسروں کی شرکت فرمایا مدرسہ میں مہمان آتے ہیں ، ادھر ادھر بیٹھے باتیں کیا کرتے ہیں ، اگر تفسیر وحدیث کے سبق ہی میں آکر بیٹھ جایا کریں تو کچھ تو فائدہ ہوگا، اصل میں دوسرے مدرسوں میں یہ معمول ہے کہ بلااجازت کوئی سبق میں نہیں بیٹھ سکتا، پہلے اجازت لینی پڑتی ہے، وہی یہاں بھی سمجھتے ہیں ، میرے یہاں تو بالکل اجازت ہے جس کا جی چاہے آکر بیٹھے، شیخ الحدیث بھی آکر بیٹھ جائے تو میں اسی طرح سبق پڑھاتا رہوں گا، ایک جگہ میراجاناہوا اور ایک سبق میں جاکر بیٹھ گیا انہوں نے سبق نہیں پڑھایا اور کہا کہ مولانا اگر آپ رہیں گے تو سبق نہیں پڑھا پائوں گا، مجھے بہت افسوس ہوا میں اٹھ کر چلاآیا، آخر اس میں کون سی ایسی بات ہے اگر ہمارے بڑے موجود ہیں اور میرا سبق سن رہے ہیں تو اچھا ہے سنیں ، جو غلطی ہوگی اس کی اصلاح کردیں گے، تنبیہ ہوگی اس کا فائدہ ہوگا، جو سمجھ میں نہ آئے گا ان سے پوچھ لیں گے یہ تو خوشی کی بات ہے۔شروع کی محنت ہمیشہ کام آتی ہے فرمایا میں جب سہارنپور پڑھنے گیا اور وہاں بہت دنوں تک تو داخلے ہی ہوتے