مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
رہتے ہیں ، لڑکے ادھر ادھر بیٹھے باتیں کیا کرتے ہیں ، ایک مجلس میں ایک طالب علم آیااور کسی بات پر اس نے کہا ’’ارے یار کیوں تجاہل عارفانہ کرتے ہو‘‘ (یعنی کیوں جان بوجھ کر بتکلف جاہل بن رہے ہو) باب افتعال کا ایک خاصہ تکلف بھی تو ہے، جب اس نے یہ جملہ استعمال کیا تو میں مرعوب ہوا اور سوچا کہ یہاں تو بڑے قابل قابل لڑکے ہیں یہاں دال نہ گلے گی پانی پت میں تو اپنے درجہ میں سب سے تیز میں ہی تھا، یہاں آکر فکر ہوگئی لیکن جب کتابیں شروع ہوئیں اسباق ہونے لگے تب معلوم ہوا کہ ارے کچھ بھی نہیں عبارت پڑھنا بھی نہیں آتی، تکرار ومذاکرہ کراتے ہیں تو اٹائیں سٹائیں ہانکتے ہیں ، ایک جملہ تھا ’’تجاہل عارفانہ‘‘ کہیں سن لیا ہوگا اس کو رٹ لیا تھا اس سے میں خواہ مخواہ اتنا مرعوب ہوگیا تھا، اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہ تھا، شروع کی محنت ہمیشہ کام آتی ہے، ابتدائی محنت کی اس وقت قدرہوئی۔استعداد نہ بننے میں طلبہ کا قصور زیادہ ہے اصل بات یہ ہے کہ طلبہ خود ہی کچھ حاصل کرنا نہیں چاہتے، خود ان کے اندر ذوق شوق نہیں ورنہ اس کی کوشش کرتے، کتاب کا مطالعہ کرکے آتے، نہ مطالعہ کا اہتمام نہ تکرار کی فکر، بس سبق میں آکر بیٹھ گئے، استاد کی تقریر سن لی وہ بھی بے توجہی سے اس طرح کہیں استعداد بنتی ہے۔شاہ وصی اللہ صاحبؒ کا ارشاد کہ بغیر مطالعہ کے پڑھنا میں حرام سمجھتا ہوں حضرت شاہ وصی اللہ صاحب ؒ فرمایا کرتے تھے کہ بغیر مطالعہ کے پڑھانا میں حرام سمجھتا ہوں ایک مرتبہ میں الہ آباد گیا تھا، میرے سامنے کی بات ہے ان کے داماد مولانا مبین احمد صاحب مرقاۃ کا سبق پڑھ رہے تھے، عبارت پڑھنے میں غلطی کی، مولانا نے فرمایا بغیر مطالعہ کے پڑھتے ہو، بہت ڈانٹا اور فرمایا نکل جائو، بغیر مطالعہ کے پڑھنے آگئے، بغیر مطالعہ کے پڑھنا میں حرام سمجھتا ہوں ۔