مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
غرض سے ہیں کہ پورا ادارہ ان کے ہاتھ آجائے، لیکن ابھی اس کی موجودہ عمارت جس میں حکومت نے امداد کی ہے وہ سب مدرسہ ہی کی ہے۔ الغرض حضرت اقدسؒ کی قطعی منشا نہ تھی کہ اسکول میں ہائی اسکول تک کی مانتا کرالی جائے یا دینی مدرسہ کو خالص اسکول اور کالج میں تبدیل کردیا جائے، حضرت اس کو خالص دینی مدرسہ ہی رکھنا چاہتے تھے، جس میں دنیوی تعلیم بھی ساتھ ساتھ ہو لیکن ضمناً وتبعاً اور اصل دینی مدرسہ اور دینی تعلیم ہی ہو۔دینی مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم کا طریقہ زیر غور حالات میں حضرت اقدسؒ نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ دینی تعلیم کے ساتھ یہ سلسلہ (یعنی حکومت کی دخل اندازی اور اس سے مانتا لینے کا سلسلہ) ہونا ہی نہیں چاہئے ورنہ کل رونا پڑے گا اور سب کچھ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا، بعد میں حکومت کا کوئی دوسرا افسر آئے گا وہ بڑا سخت مزاج ہوگا تعصب برتے گا سارے اختیارات اور کاغذات اس کے قبضہ میں ہوں گے ایک ایک کو نکال کر باہر کرے گا، مدرسہ کا نام ونشان مٹ جائے گا ، مدرسہ کالج بن جائے گا، ہم ایسا موقع ہی کیوں آنے دیں ، اور اگر کسی کو کرنا ہی ہے اور حکومت سے مانتا لینی ہی ہے تو اس کی یہ صورت تو ٹھیک نہیں کہ دونوں مشترک ہوں بلکہ دونوں کو بالکل علیحدہ کردو، دونوں کی عمارت بھی بالکل علیحدہ ہو ادھر کے لڑکے ادھر اورادھر کے لڑکے ادھر نہ آجاسکیں ، درمیان میں دیوار حائل کردی جائے مدرسہ میں داخل ہونے کے لئے دونوں کا گیٹ بھی علیحدہ علیحدہ ہو، الغرض کسی قسم کا تعلق اور کسی نوع کی شرکت دونوں کے درمیان نہ ہو اس طرح حکومت کی مانتا لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ، ورنہ مخلوط انگریزی تعلیم کا دینی مدارس میں بہت خراب اثر پڑتا ہے، اور اگر مدرسہ میں انگریزی تعلیم کرنا ہی ہے تو اس کو تابع کرکے رکھنا چاہئے اس طرح کہ ایک گھنٹہ اور ایک سبق اس کا بھی ہو جیسا کہ ندوہ وغیرہ میں ہے، خالص انگریز ی کو رس نہ ہو ، جیسا کہ اسکولوں اور کالجوں میں ہوتاہے۔