مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
سفارشی خط کس کے پاس لکھا جاتا ہے ایک صاحب نے حضرت اقدس سے سفارشی خط لکھنے کی درخواست کی، حضرت نے فرمایا سفارشی خط وہاں لکھا جاتا ہے جہاں کچھ امید ہو کہ بات سنی جائے گی، سفارش کا اثر ہوگا، اور جہاں سفارش کا کچھ اثر ہی نہ ہوتو سفارش کرنے سے کیا فائدہ، میں نے اپنے کام کے لئے فلاں صاحب کے پاس بھیجا تھا، لیکن انہوں نے کام نہیں کیا،حضرت نے ضرورت مندسے فرمایا کہ خود ہی جاکر ملاقات کرلو، ان سے کہہ دینا کہ ہم ایسی مجبوری وپریشانی کے حال میں آئے ہیں ، مجبور آدمی تو تنکے کا سہارا لیتا ہے، ہم آپ کے پاس کچھ سہارا اور کچھ امید لے کر آئے ہیں ، آپ تو علاقہ کے ہیں خاندان کے ہیں ، حضرت نے فرمایا عجیب بات ہے کہ جو کرسی میں بیٹھ جاتا ہے پھر وہ سب کچھ بھول جاتا ہے، اس کو بس کرسی ہی دکھائی دیتی ہے۔بلااجازت دوسروں کی کتاب طبع کرلینے پر ناگواری حضرت اقدس نے سلّم کی شرح’’اسعادالفہوم‘‘ کے نا م سے تحریر فرمائی ہے جو ایک عرصہ تک طبع نہ ہوسکی تھی، بمشکل تمام کسی طرح اس کی طباعت ہوئی اللہ کی شان کہ بہت مقبول ہوئی اب بعض دوسرے مکتبہ والوں نے اس کو شائع کردیا ،حضرت کو اس کا علم ہوا حضرت نے سخت ناگواری کا اظہارفرمایا، احقر نے اپنی کتاب العلم والعلماء کے متعلق عرض کیاکہ اس کو دوسرے مکتبہ والوں نے شائع کردیا ہے، احقرنے حضرت سے مشورہ کیا کہ کیا کروں خاموش رہوں ؟ حضرت نے فرمایا نہیں ان کو خط لکھو، عجیب بات ہے، ایک شخص محنت کرے عرق ریزی سے کتاب تیار کرے کسی طرح اس کو طبع کرائے جب چلنے لگے تو دوسرے لوگ اس کو طبع کرالیں ۔ حضرت نے اپنی ایک کتاب ایک صاحب کو طبع کرانے کے لئے دی لیکن بعض دوسرے لوگوں نے اس کو طبع کرالیا، حضرت کو اس کا علم بھی نہیں ہوا ، احقر نے حضرت سے اس کا تذکرہ کیا حضرت نے فرمایا عجیب لوگ ہیں کم از کم تذکرہ تو کرتے اگر ابھی