مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
جائے گا اس کی ذات سے فساد ہی فساد ہوگا، اگر کچھ کام کرنا ہو تو اپنے کو مٹادے فناکردے،کسی اللہ والے سے تعلق قائم کرے، اس کی جوتیاں سیدھی کرے، اور اپنی ذات کو فنا کردے، اس کے بغیر کامیابی نہیں ہوتی،۔ جو طلبہ واقعی پڑھنے والے ہوتے ہیں ، محنت کرتے ہیں ، ذی استعداد ہوتے ہیں ، لیکن اصلاح نفس کی فکر نہیں ہوتی ایسے لوگوں کے بارے میں کہہ رہا ہوں کہ شیخ الحدیث شیخ الادب اور مفتی کے نام سے مشہور ہوجانے کی فکر میں رہتے ہیں ، اور ان کے اندر صلاحیت بھی ہوتی ہے، محنت بھی کرتے ہیں ، لیکن اپنے آپ کو فنا نہیں کرتے، اپنے کو چھوٹا نہیں سمجھتے، تکبر میں مبتلا ہوتے ہیں ، ایسے لوگوں سے اصلاح کاکام نہیں ہوتا، اور جو فیض ان کی ذات سے ہونا چاہئے وہ نہیں ہوتا، اور جو لوگ مدرسہ میں آکر یوں ہی نام کے لئے پڑھتے ہیں ، کسی بورڈ کے اسکول میں امتحان دے کر ڈگری حاصل کرلیتے ہیں ایسے لوگوں کی بابت تو کچھ کہنا ہی بیکار ہے، ایسے لوگوں میں کہاں اخلاص ہوگا، ان کا مقصد تو صرف دنیا کمانا ہے، دعاء کرو اللہ تعالیٰ ہم سب کی اصلاح فرمائے۔حضرت کی طالب علمی اور امتحان کا عجیب واقعہ منطق کی کتاب شرح تہذیب کا سبق پڑھاتے ہوئے حضرت نے ارشاد فرمایا کہ یہ سبق بہت اہم اور مشکل مقامات میں سمجھا جاتا ہے، جب میں پانی پت میں پڑھتا تھا میرے ایک ساتھی جو میرے گہرے دوست بھی تھے، وہ بھی پڑھتے تھے لیکن ہم لوگوں کی دوستی صرف پڑھنے پڑھانے والی ہوتی تھی، پڑھنے کے سلسلہ میں وہ ہمیشہ کوشش کرتے تھے کہ یہ مجھ سے آگے نہ بڑھنے پائے میں ہمیشہ ان سے آگے رہوں ، شروع شروع میں منطق وفلسفہ کی طرف میری رغبت بہت کم تھی، اس کی طرف زیادہ توجہ نہیں کرتا تھا بس درس میں کتابیں پڑھ لیتا زیادہ محنت نہ کرتا تھا، منطق وفلسفہ میں تو بعد میں محنت کی ہے، مراد آباد جاکر منطق وفلسفہ پڑھا ہے اس زمانہ میں وہاں منطق وفلسفہ کا بڑا زور تھا اور مجھے چونکہ ہر فن پڑھانا تھا اسلئے ہر فن کو محنت سے پڑھا تھا، منطق فلسفہ کی تمام اہم کتابیں شرح چغمینی وغیرہ سب وہیں پڑھی ہیں اب تو ان