مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
تنقید سے نہیں تقلید سے کام بنتا ہے حضرت نے فرمایا شیخ پر نکیر اور اعتراض نہیں کرنا چاہئے،اس سے بڑا نقصان ہوتا ہے، ایسا شخص ہمیشہ محروم رہتا ہے جو کچھ حاصل ہوتا ہے تنقید سے نہیں بلکہ تقلید سے حاصل ہوتا ہے، اور تقلید ہی سے کام بنتاہے، اس کے بغیر ترقی نہیں ہوتی، البتہ کسی مسئلہ کو تحقیق کرنا اور اطمینان کے لئے سمجھنا یہ دوسری بات ہے لیکن تنقید اور اعتراض مضر چیز ہے۔ایک صاحب کا اشکال اور اس کا جواب وہ مہمان صاحب فرماتے تھے کہ یہ ذکر وغیرہ اس طرح اجتماع واہتمام کے ساتھ سمجھ میں نہیں آتا، اگر کوئی لڑکا اٹھ جائے تو اس پر نکیر کی جاتی ہے، سختی سے ذکر کرایا جاتا ہے، کسی امر مندوب پر اگر اصرار کیا جائے تو وہ بدعت بن جاتا ہے، احقر راقم الحروف نے عرض کیا کہ اگر امر مندوب کو اس کے درجہ سے بڑھا دیا جائے تو بے شک بدعت ہوجاتا ہے، لیکن جب اس کو اس کے درجہ سے آگے نہ بڑھا یا جائے بلکہ مستحب سمجھتے ہوئے عادت ڈلوانے کے لئے، تعلیم وتربیت کے طور پر اگر سختی بھی کی جائے اور طلبہ کو اس کا پابند بنایا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، دیکھئے چھوٹے سات سالہ بچے سے نماز پڑھوانے کا حکم حدیث پاک میں آیا ہے اور نو دس سال میں تو مارکر نماز پڑھوانے کا حکم ہے، حالانکہ ظاہر ہے کہ اس عمر میں ابھی اس پر نماز فرض نہیں بلکہ نفل اور مندوب ہے لیکن صرف عادت ڈلوانے کے لئے اس سے نماز پڑھوائی جاتی ہے، سختی بھی کی جاتی ہے اس سے معلوم ہوا کہ امرمندوب پر بھی مندوب سمجھتے ہوئے اور اس کو اس کے درجہ پر رکھتے ہوئے عادت ڈلوانے کے لئے نکیر کرنا اور سختی کرنا جائز ہے،اس پر وہ عالم صاحب خاموش ہوگئے اور کچھ جواب نہیں دیا۔