مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
ہووہاں تودن رات ساتھ رہناتھا، واقعی بڑا مشکل مرحلہ تھا، یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی کا بھی اس سے اندازہ ہوتا ہے، جب دوسری عورتوں نے اس کو ملامت کی تو زلیخا نے ان عورتوں کی دعوت کی اور یوسف علیہ السلام کو کسی بہانہ سے سامنے آنے کا حکم دیا، ان عورتوں نے یوسف علیہ السلام کو دیکھتے ہی بجائے پھل کاٹنے کے اپنے اپنے ہاتھ کاٹ لئے، ان کا اتنی ہی دیر میں یہ حال ہوگیا، اور زلیخا کا تو دن بھر کا ساتھ تھا اور اس پر بھی اتنا صبر، جب ان عورتوں نے اپنے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تو یوسف علیہ السلام کے حسن وجمال کو دیکھ کر بے ساختہ کہنے لگیں کہ یہ انسان نہیں فرشتہ ہے، ان عورتوں نے بھی یوسف علیہ السلام کو سمجھا یا کہ زلیخا کی بات مان لو، لیکن یوسف علیہ السلام نے بات نہیں مانی۔تکوینی طور پر بسااوقات بڑوں سے غلطی کرائی جاتی ہے جب یوسف علیہ السلام نے یہ ماحول دیکھا کہ یہاں بچنا بہت دشوار ہے، یہ عورتیں بھی میرے پیچھے ہاتھ دھوکے پڑی ہوئی ہیں اور زلیخا کہتی تھی کہ میری خواہش پوری کرو،میری بات مانو ورنہ جیل خانہ بھجوادوں گی، اس وقت یوسف علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعاء کی کہ یا اللہ اِس مصیبت سے تو قید خانہ میرے لئے بہتر ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اچھا ٹھیک ہے تم نے اپنے لئے قید خانہ تجویز کیا ہے تو ہم قید خانہ ہی بھیج دیتے ہیں ، ورنہ ہم تو اس کے بغیر یعنی جیل خانہ جائے بغیر بھی بچا سکتے تھے، جیل خانہ کی دعاء کیوں کی؟ تم نے اپنی تجویز سے قید خانہ کی دعا کی ہے ہم قید خانہ بھیج دیتے ہیں ، بڑوں کی گرفت بھی جلدی ہوتی ہے، معمولی بات پر بھی گرفت ہوجاتی ہے، یوسف علیہ السلام سے اجتہادی چوک ہوگئی اور تکوینی طور پر آپ سے یہ خطاکرائی گئی، آپ کی زبان سے یہ کلمات نکلوائے گئے، تکوینی طور پر جیل خانہ بھیجنا تھا اور وہاں جاکر سیکڑوں ہزاروں کو آپ کے ذریعہ ہدایت دینی تھی اس لئے تکوینی طور پر آپ کی زبان سے یہ جملے نکلوائے گئے۔