مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
نماز میں غیر اختیاری خیالات کا آناخشوع کے منافی نہیں خطرات ووساوس کا علاج ایک بڑے میاں جو کافی معمر تھے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضرت نماز میں گندے گندے خیالات اور وساوس بہت آتے ہیں اس کی وجہ سے بڑی بے چینی رہتی ہے، نماز میں جی نہیں لگتا، حضرت نے ان کو تسلی دی اور فرمایا کہ اس سے کوئی نہیں بچا،نمازمیں طرح طرح کے خیالات ہرایک کوآتے ہیں اور یہ کوئی خشوع کے منافی نہیں قلب کی مثال تو سڑک کی سی ہے کہ اس میں گدھا بھی چلتا ہے آدمی بھی چلتے ہیں کتا، بلی ، بیل اور تمام جانور سڑک سے گذرتے ہیں اب اگر کوئی شخص ان گذرنے والوں کو چھیڑنے لگے اور ان سے تعرض کرے کہ یہاں سے کیوں گذرتے ہیں تو کیا اس کا راستہ طے ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں ، ارے وہ اپنے راستے جارہے ہیں تم اپنے راستے جائو ان کو چھیڑتے کیوں ہو، تم تو چلتے چلے جائو کتّا گذرتا ہے گذرنے دو، بلّی گذرتی ہے گذرتی رہے چھیڑوگے تو خود پریشان ہوگے، یہی حال خطرات اور وساوس کا بھی ہے قلب توگویا ایک سڑک اور گذرگاہ ہے اس میں طرح طرح کے خیالات گذرتے ہیں تو گذرنے دو تم اپنے کام میں لگے رہو، ان خیالات کے پیچھے نہ پڑو نہ ان کو چھیڑو، چھیڑوگے تو پریشان ہوگے۔نماز میں خشوع کی حقیقت اور اس کے حاصل کرنے کا طریقہ فرمایانماز میں جو خیالات از خود آجاتے ہیں ان کی طرف توجہ نہ کرنا چاہئے نہ ہی ان کو دفع کرنے کی کوشش کرنا چاہئے، دفع کروگے تو اور بڑھیں گے بلکہ نماز میں جو کچھ پڑھ رہا ہے، اس کے الفاظ ومعانی اور ترجمہ میں غور کرے دوسری طرف سے توجہ خود ہٹ جائے گی، اسی کا نام خشوع ہے، خشوع اس کو نہیں کہتے کہ نماز میں کسی قسم کا خیال ہی نہ آئے، نماز میں استغراقی کیفیت ہوجانے کا نام خشوع نہیں ہے کہ دنیا ومافیھا کی