مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
جلسوں کی وجہ سے سبق کا ناغہ نہ کرنا چاہئے حضرت اقدسؒ مہوبا ایک جلسہ میں تشریف لے گئے تھے حضرت کے بڑے صاحبزادے بھی ساتھ میں تشریف لے گئے تھے، جلسہ کے بعد حضرت ھتورا کے لئے روانہ ہوگئے، جلسہ کی وجہ سے پوری رات خراب ہوئی، فجر سے پہلے مدرسہ پہنچے، سونے کا موقع ہی نہیں ملا، حضرت اقدسؒ تو فجر کی نماز کے بعد حسب معمول اسباق پڑھانے میں مشغول ہوگئے، سبق کے بعد فرمایا حبیب کہا ں ہے، سورہا ہوگا وہ پڑھائے گا کہاں ، آج تو وہ دن بھر سوئے گا، جب تک دن بھر سونہ لے گا، اس کی نیند پوری نہ ہوگی، ایسے شخص کو سفر ہی نہ کرنا چاہئے جو سبق کا ناغہ کرکے تعلیم کا حرج اور طلبہ کا نقصان کرے، راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ رات بھر جاگنے کے بعد دن میں آرام کرنا طبعی تقاضہ ہے جو قابل ملامت بھی نہیں لیکن حضرت اقدسؒ نے اپنے صاحبزادوں کی عجیب انداز سے تربیت فرمائی تھی اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ماشاء اللہ وہی صاحبزادے اپنے والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہی کے طرز پر کام کررہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ مزید ترقیات سے نوازے۔سبق پڑھانے کا طریقہ ایک کتاب کا درس دیتے ہوئے فرمایا کہ اصل چیز یہی ہے کہ جس فن کی جو کتاب ہو اور فن کا جو مسئلہ بیان کیا گیا ہو پہلے اس کو سمجھا کر پھر اس مضمون کا عبارت سے انطباق کیا جائے، محض لمبی چوڑی تقریر کردینے سے کچھ نہیں ہوتا، اصل تو یہ ہے کہ عبارت کو حل کرائے، ضمائر کے مراجع ظاہر کرے، ترجمہ صحیح صحیح کرے، لوگ یہ تو کرتے نہیں لمبی چوڑی تقریر کردیتے ہیں ، تقریر کرکے اپنے عیب کو چھپاتے، تم لوگ خوب مطالعہ کیا کرو اورعبارت میں خوب غور کیا کرو۔سبق پڑھانے کا اچھا انداز حضرت اقدسؒ ایک کتاب کا درس دے رہے تھے، طالب علم کے عبارت پڑھنے