مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
باب ۳ اصلاح نفس اپنی محنت وکوشش کے بغیر کچھ نہ حاصل ہوگا فرمایاجب تک آدمی خود کوشش نہیں کرتا کسی کام میں اس کو ترقی نہیں ہوتی، مثلاً ایک آدمی بھوکا ہے پیاسا ہے، اگر کوئی شخص اس کی مدد کرنا چاہتا ہے اس کو کھانا کھلانا چاہتا ہے تو کس طرح اس کی مدد کرسکتا ہے؟ یا کوئی شخص ننگا ہے اس کے پاس کپڑے پہننے کے نہیں ہیں ، اس کو کوئی کپڑے پہنانا چاہتا ہے، اور اس کی مدد کرناچاہتا ہے تو اس کی مدد کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ مدد کرنے والاصرف یہی تو کرسکتا ہے کہ کھانا لاکر اس کے سامنے رکھ دے گا کپڑے اس کو دیدے گا بس اتناہی توکرسکتا ہے اس کے بعد کھانا تو خود اسی کو پڑے گا، کچھ کام تو اس کو بھی کرنا پڑے گا جب ہی تو اس کا پیٹ بھر سکتا ہے، یا مثلاً ڈاکٹر مریض کا علاج کرنا چاہتا ہے تو ڈاکٹر اتنا ہی کرے گا کہ نسخہ لکھ کر دے دے دگا، دوا نکال کر دیدے گا زیادہ خیر خواہی کرے گا تو اپنی فیس اور دواکے پیسے نہ لے گا، بس اتنا ہی تو کر سکتا ہے یا دوا بھی اپنے ہاتھ سے کھلائے گا؟ یا کوئی شخص راستہ بھول گیا دوسرا کوئی آدمی اس کوصرف راستہ ہی بتلاسکتا ہے آگے چلنا تواسی کو پڑے گا، یا کوئی اس کے بدلے خود وہ چلے گا بھی؟ دوسرے کے کھانا کھالینے سے خود اس کاپیٹ نہیں بھر تا جب تک کہ وہ خود نہ کھائے، دوسرے کے چلنے سے وہ منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ خود نہ چلے، جس طرح دنیا کے معاملات میں سوچا جاتا ہے، اسی طرح دین اور آخر