مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
اساتذہ کے ادب سے علم میں ترقی ہوتی ہے فرمایا اساتذہ کا ادب بہت ضروری ہے، اس سے علم میں برکت ہوتی ہے، علم حاصل کرنے کے بہت سے طریقے ہیں ان میں ایک ادب بھی ہے، ادب سے علم حاصل ہوتا ہے، امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ میں نے پڑھنے سے زیادہ ادب سے علم حاصل کیا ہے، جب ادب کیا جاتا ہے تو استاذ کے دل میں قدر ہوتی ہے، قلب منشرح ہوتا ہے، دل سے دعاء نکلتی ہے، استاد کی دعاء بھی اثر کرتی ہے اور بددعاء بھی، استاد کی دعاء سے علم میں برکت اور ترقی ہوتی ہے، ان کو کبھی ناراض نہ کرے اگروہ کبھی ناحق بھی ناراض ہوجائیں یا مار بھی دیں تب بھی برا نہ مانے اوران سے ناخوش نہ ہو، پیٹھ پیچھے ان کی برائی نہ کرے، دل میں بھی ان کا احترام ہونا چاہئے، علم حاصل کرنے کے اسباب اختیار کرو پھر دیکھو علم میں برکت ہوتی ہے یا نہیں ۔ آج ہمارے ا ندر اساتذے کا ادب نہیں ، استاد کے سامنے اس کے آگے تیزی سے بھاگے چلے جارہے ہیں ، اس کے سامنے زور سے چیخ رہے ہیں ، معلوم ہوتا ہے کہ استاد کوئی چیز ہی نہیں اسی لئے علم میں برکت نہیں اور جس طرح استاد کا ادب واحترام کرنا چاہئے اسی طرح اپنے بڑوں کااور درجہ میں بڑے ساتھیوں کا بھی ادب کرنا چاہئے۔حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کو اتنا بلند مقام کیسے نصیب ہوا فرمایا حضرت مولانا(سیّد ابوالحسن) علی میاں صاحب اس وقت دنیا کے امام ہیں ، شام جاتے ہیں تو بڑے بڑے لوگ ان کی جوتیاں سیدھی کرتے ہیں ، ان کو اپنے یہاں بڑے اہتمام سے بلاتے ہیں ، یہاں تک فرمائش کرتے ہیں کہ آپ ہمارے یہاں آکر رہئے،۔ دمشق کی جامع مسجد میں آپ کو مدعو کیا گیا اور یہاں تک کہا گیا کہ آپ سال میں صرف تین ماہ کے لئے آجایا کریں ، آپ کے رہائش کے لئے عمدہ بلڈنگ ہوگی، سفر کے لئے ہوائی جہاز کا انتظام ہوگا، آپ کو کسی قسم کی کوئی دشواری نہ ہوگی، کام بھی کچھ نہ ہوگا