مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
بچو ں کی اصلاح وتربیت کے سلسلہ میں اہم ہدایت بچوں کی ضد سے پریشان نہ ہونا چاہئے ایک صاحب نے حضرت سے بچے کی اصلاح کے لئے تعویذ مانگا، عرض کیا کہ حضرت بچہ بہت ضدکرتا ہے ایسا تعویذ دے دیجئے کہ بچہ ضد نہ کرے، حضرت نے فرمایا کہ بچہ نہیں تو کیا بوڑھا ضد کرے گا، بچے ہی تو ضد کرتے ہیں ، حضرت نے پوچھا کتنے سال کا ہے کہاتین چار سال کا ہے، فرمایا تین سال کا بچہ ضد نہیں کرے گا تو اور کیا کرے گا، بچے ضد کرتے ہی ہیں ، ہر بات کا تعویذ نہیں ہوتا، تم لوگ تو ذرا میں پریشان ہوجاتے ہو، بچوں کو اتنا زیادہ مہذب بنانے کی کوشش نہ کرو، (کہ وہ ضد بھی نہ کریں ) زیادہ پیچھے نہ پڑو، جو لوگ شروع سے ہی ان کو زیادہ مہذب اور بزرگ بنانے کی کوشش کرتے ہیں آگے چل کر ان کے بچے اور خراب ہوجاتے ہیں ، البتہ اس کی کوشش کرنا چاہئے کہ عادتیں خراب نہ ہونے پائیں ، اس کی تو فکر نہیں کرتے، بچہ کی ضد سے پریشان ہوتے ہیں ، اسی ضمن میں فرمایا کہ ایک جگہ ایک صاحب کسی سے ملاقات کے لئے گئے، دستک دی اندر سے بچہ آیا اس سے پوچھا کہ ابا ہیں ، بچہ اندر گیا اور اس نے واپس آکر جواب دیا کہ ابا کہہ رہے ہیں کہہ دو کہ نہیں ہیں ، یہ اسی علاقہ کا واقعہ ہے، اس طرح کے اخلاق کا بچوں پر بہت برا اثر ہوتا ہے، ان کی بھی عادتیں خراب ہوتی ہیں ، اور وہ بھی شروع سے جھوٹ بولنے کے عادی ہوجاتے ہیں ، ایسی حرکتوں سے بچوں کو بچانا چاہئے۔تعویذوالوں کی وجہ سے پریشانی اور دینی نقصان فرمایا اب تو تعویذ والوں کی اتنی بھیڑ ہوگئی ہے کہ میں سخت پریشان ہو گیا ہوں ، اس کی وجہ سے کچھ لکھ پڑھ نہیں پاتا، تین دن سے لکھانے کا ناغہ ہورہا ہے، پہلے تقریر لکھتا ہوں اسی کا املاء کراتاہوں ، اور تعویذ والوں کی وجہ سے لکھنے کا موقع ہی نہیں ملتا، سو ڈیڑ ھ سو آدمی آجاتے ہیں ایسا میں نے کہیں نہیں دیکھا، اب تو یہی صورت ہے کہ میں یہاں