مجالس صدیق جلد 1 |
§فادات ۔ |
|
کے بعد اس کو چندپیسے ملتے ہیں ، اور علم بغیر محنت وکوشش کے کیسے مل جائے گا، طلبہ تو بغیر محنت و کوشش کے بس سند حاصل کرلیتے ہیں ، اور اسی کو کافی سمجھتے ہیں ،آدمی جب تک علم کا غلام نہ بن جائے تب تک علم حاصل نہیں ہوتا، علم بہت خوشامد کراتا ہے تب کہیں جاکر علم آتا ہے، اگر تم لوگ واقعی محنت کرو تو علم کیسے نہ آئے گا، اصل وجہ یہ ہے کہ آج علم کا ذوق نہیں ورنہ اگراستعداد بنانا چاہیں تو کیسے نہیں بن سکتی لیکن محنت ہی نہیں کرتے اور بغیر محنت کے تو کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔طلبہ کو چند اہم نصیحتیں طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: تکبر کبھی نہ کرنا چاہئے، تکبر آدمی کو ہلاک وبرباد کردیتا ہے، اپنے ساتھیوں اور ہمعصروں سے بھی تکبر نہیں ہونا چاہئے، مثلاً کسی ساتھی کو کچھ نہیں آتا، عبارت نہیں آتی ترجمہ نہیں آتا اور ہم کو آتا ہے تو اس پر تکبر نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ جو کچھ ہے سب کچھ انھیں کا دیا ہوا ہے بندہ کا اس میں کیا کمال وہ جب چاہیں چھین لیں کوئی کیا کرسکتا ہے، ایک منٹ میں کچھ سے کچھ ہوسکتا ہے، جس خدا نے مجھ کو پپدا کیا ہے اسی خدا نے اس کو بھی پیدا کیا ہے پھر تکبر کیسا وہ مجھ کو بھی اس جیسا پیدا کر سکتا تھا، میرا ذہن اُس کو اور اُس کا ذہن مجھ کو دے سکتا ہے، یہ تو محض اللہ کا فضل ہے اس پر شکر کرنا چاہئے اور ڈرتے رہنا چاہئے۔ اللہ نے جس کو کوئی نعمت دی ہو اس پر تکبر کبھی نہ کرے، اترائے نہیں ، فخر نہ کرے، اللہ کا فضل اور اس کا انعام سمجھے، اللہ نے جو نعمت دی ہے دوسروں کو فائدہ پہنچائے، دوسروں کو سکھلا دے بتلادے، جن ساتھیوں کو مثلاً عبارت نہیں آتی مطلب نہیں آتا ان کو سکھلا دے بتلادے،خَیْرُالنَّاسِ مَنْ یَّنْفَعُ النَّاسَ،بہتر شخص وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے، تم دوسروں کو نفع پہنچائو اللہ تعالیٰ تم کونفع پہنچائے گا، ترقی ہوگی، اور ترقی ایسے ہی ہوتی ہے، دوچار لڑکوں کو لے کر بیٹھ جائو، جن کا قرآن پاک صحیح نہیں ہے ان کا قرآن صحیح کرائو، یہ تو قرآن پاک کے متعلق ہے، اور عربی کی عبارت جن طلباء کو نہیں آتی دوچار لڑکوں کو لے کر بیٹھ جائو کہ لائو ہم تمہاری عبارت صحیح کرادیں ، صَرف نحو، صیغہ اور تعلیل کی مشق کرادو، چند