مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
طالب علم کو اکل حلال کا بہت اہتمام کرناچاہئے فرمایا طالب علم کو اکل حلال کا بہت اہتمام کرنا چاہئے، حرام سے بہت بچنا چاہئے، اس کا باطن پر بڑا اثر پڑتا ہے، لیکن آج کل اس کی طرف نگاہ ہی نہیں جاتی، جو چاہا کھا لیا پی لیا، اگر کسی کی کوئی چیز چوری کرلی تو اس کو تکلیف ہوگی اس کادل دکھے گا، وہ پریشان ہوگا جس کا سبب یہ بنا تو کیااس عمل سے اس چور کی آخرت تباہ نہ ہوگی، اگر کسی نے کسی کی لنگی چوری کرکے پہن لی تو کیا ایسے شخص کو علم نصیب ہوجائے گا۔ اگر حلال کا اہتمام نہ ہو تو عمل صالح کی توفیق ہوہی نہیں سکتی، اس سے جو اعمال صادر ہوں گے ان کو اعمال صالحہ کہیں گے ہی نہیں ، انبیاء علیہم السلام تک کو اکل حلال کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ ارشاد ہے’’یَا اَیُّھا الرُسُل کُلوا مِنَ الطّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحاً۔ مفسرین نے اس میں نکتہ بیان کیاہے کہ اکل طیّب کا ذکر پہلے کیا، عمل صالح کا تذکرہ بعد میں کیا اس سے معلوم ہوا کہ پہلے اکل حلال ہونا چاہئے تب کہیں جاکر عمل صالح ہوسکتا ہے، اسی وجہ سے اکل طیب کو عمل صالح پر مقدم کیاگیا۔