مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
سے کہیں چلاجائوں ، بہت پریشان ہوگیا ہوں ، تعویذ تو تعویذ جتنے لوگ آتے ہیں ان کے ناشتہ کھانے میں اچھا خاصا خرچ ہوتا ہے، ابھی جو یہ گاڑی آئی تھی سیکڑوں کے نتھے گئی ہوگی، خیر کھانے کی اتنی بات نہیں جو کھاتا ہے اپنے مقدر کا کھاتا ے لیکن میں اتنا وقت کہاں سے لائوں ، میرے پاس اتنا وقت تو ہے نہیں کہ ہر ایک کی تفصیلی بات سنوں ۔سمجھ دار اوردین دار لوگوں کو بھی سحر وآسیب کا وہم ایک صاحب حضرت سے تعویذ لینے آئے اور عرض کیا کہ حضرت ایسا لگتا ہے کہ کوئی ہمارے پیچھے لگا ہے، کسی نے کچھ کرادیا ہے، حضرت نے فرمایا عجیب بات ہے، آج کل جس کو دیکھو ہر ایک یہی کہتا ہے کہ سحر وآسیب کا اثر ہے، جہاں ذرا کوئی پریشانی یا بیماری آئی فوراً زبان پر یہی آتا ہے کہ کسی نے کچھ کرادیا ، سحر کا یا آسیب کا اثر ہے، اس میں اچھے اچھے پڑھے لکھے لوگ بلکہ بڑے بڑے علماء تک مبتلاء ہیں ، بیماری ہوتو بھی سحر ہے، پریشانی ہو تو کسی نے کچھ کردیا، کوئی نقصان ہو تو بھی کوئی پیچھے پڑا ہے، تعجب ہے کہ اچھے اچھے موحد اور توحید کا سبق سکھانے والے، تبلیغ کرنے والے وہ بھی اس میں مبتلا ہیں اور یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ صاحب کسی نے کچھ کردیا، اللہ رحم کرے اس وہم کی وجہ سے ایسی ایسی بدگمانیاں قائم کی جاتی ہیں کہ فلاں رشتہ دارنے یا فلاں شخص نے کچھ کرادیا، اس کو ایسا حق اور یقینی سمجھتے ہیں جیسے آسمان سے وحی نازل ہوگئی ہے کہ واقعی فلاں ہی کے کر نے سے یہ ہوگیا ہے، اسی نے کچھ کردیا ہے۔ ارے جو کچھ ہوتا ہے اللہ کی طرف سے ہوتاہے، جو کرتا ہے اللہ کرتا ہے، سحر بھی اگر ہوا اور اس کا اثر ہوا تو بھی اللہ ہی کے کرنے سے ہوا، اللہ کی مشیت کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا، جب اللہ ہی سب کچھ کرنے والا ہے، تواللہ کی طرف کیوں نہیں متوجہ ہوتے، اس سے دعاء کیوں نہیں کرتے یانعوذ باللہ شیاطین اور خبیث اللہ کی حکومت میں ایسے دخیل بن گئے کہ اللہ پر بھی نعوذ باللہ غالب آگئے، اور اللہ تعالیٰ ان کے سامنے کچھ نہیں کرسکتا، جنات بھی اگر کچھ کرتے ہیں توکرتے ہیں جنات لیکن اللہ کی مشیت سے کرتے ہیں تو