مجالس صدیق جلد 1 |
§فادات ۔ |
|
ہے کہ نیند اچاٹ ہوگئی تو مشکل سے آتی ہے اور نہ معلوم کتنوں کی طبیعت ایسی ہوگی، دوسروں کی نیند خراب ہونے سے ان سب کو تکلیف ہوتی ہے، عشاء کے بعد تو یوں بھی باتیں کرنا ممنوع ہے اگر باتیں کرنا ضروری ہی ہوں تو آہستہ باتیں کر لیا کرو، اور کمرہ کی بجلی بند کرکے سویا کرو، بعض کمروں میں رات بھر بجلی جلتی رہتی ہے، یہ دیانت اور تقویٰ کے بھی تو خلاف ہے، مدرسوں میں رہ کر اگر تقویٰ اور دیانت نہ سیکھا تو مدرسوں میں رہنے سے کیا فائدہ ، طلبہ میں آج ان باتوں کا لحاظ نہیں ، اسی واسطے ان کی باتوں میں اور ان کی زندگیوں میں کوئی اثر نہیں ، ایسی زندگی بنائو کہ لوگ تمہاری زندگی دیکھ کر ہی اثر لیں ، صحابہ کرام کی زندگیوں کو دیکھ کر لوگ اسلام میں داخل ہوگئے، تمہاری زندگی بھی تو ایسی ہونی چاہئے کہ لوگ اس سے متاثر ہوں ۔یہ ذکر بدعت نہیں ہے حضرت کے مدرسہ کا معمول ہے کہ عصر کی نماز کے بعد دعاء سے فارغ ہونے کے بعد تمام طلبۃ اسی حال میں بیٹھے ہوئے دومنٹ ذکر کرتے ہیں ، یعنی ایک تسبیح لا الہ اللّہ کی پڑھتے ہیں ، ہر طالب علم اپنے طور سے اس کو پڑھتا ہے، ایک مہمان جو بڑے عالم بھی تھے مدرسہ میں تشریف لائے انہوں نے فرمایا کہ میں تو اس کو بدعت سمجھتا ہوں ، ان عالم صاحب سے بعض لوگوں کی علمی گفتگو بھی ہوئی جس میں وہ خاموش بھی ہوگئے، یہ مہمان حضرت کے پاس بڑی عقیدت سے تشریف لائے لیکن اس سلسلہ میں انہوں نے تنقید کی حضرت کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو حضرت نے فرمایاکہ یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ شروع سے اخیر تک جتنے مشائخ اور اولیاء کرام گذرے ہیں جن کی پوری زندگی اتباع سنت میں گذری، جو ایک ایک سنت پر عمل کرنے والے تھے، وہ بھی اسی طرح ذکر کرتے چلے آئے ہیں ، کیا وہ سب بھی بدعت کرتے آئے ہیں ، آخر ہم لوگوں کو کیا بدعت کرنے کا شوق ہے؟ ہم بھی تو جانتے ہیں کہ بدعت ناجائز ہے، حرام ہے، یہاں تو محض طلبہ کی عادت ڈلوانے کے لئے ان سے ذکر کرایا جاتاہے، تاکہ طلبہ ذکر کے بھی عادی ہوجائیں ۔