مجالس صدیق جلد 1 |
§فادات ۔ |
|
کرتے ہیں ، جب ایک دو روپئے میں نیت خراب ہوتی ہے تو وہاں تو ہزاروں کو ہضم کرنے کاموقع ملے گا، وہاں کو ن پوچھنے والا ہے، خرچ کریں گے دو روپئے تو لکھا ئیں گے دس روپئے، وہ تو لاکھوں پر ہاتھ مارے گا، خدا کا خوف تو دل میں ہے نہیں ، دین ودیانت بھی نہیں ، پھر ڈر کس بات کا، جو چاہا کیا، جتنا چاہا خرچ کیا کون پوچھنے والا، گویا خدا کو تو منھ دکھانا ہی نہیں ، لیکن ایسا شخص بہت جلد ذلیل ہوتا ہے، وہ تو سمجھتا ہے کہ کون مجھے کوئی دیکھ رہا ہے، کسی کو میری حرکتوں کا علم نہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل کرہی کے رہتا ہے، اور جس کی عادت خراب ہوجاتی ہے پھر اس کی اصلاح بہت مشکل ہوتی ہے، وہ بڑا ہوجائے گا، پڑھ لکھ کر فارغ ہوجائے گا، کسی مدرسہ کا مدرس ہوجائے گا، مہتمم، ناظم، شیخ الحدیث بن جائے گا پھر بھی اس کی عادت نہ جائے گی۔چوری کی عادت کیسے ہوجاتی ہے ایک چورمولوی صاحب کا قصہ سہارنپور میں ایک صاحب کی ایسی ہی عادت خراب ہوگئی تھی، جس کا سامان چاہا بغیر پوچھے لے لیا، معمولی سی چیز سمجھ کر اٹھالی، رفتہ رفتہ ان کی عادت خراب ہوگئی چوری کرنے لگے،بڑے ہونے اور مدرس ہونے کے بعدبھی ان کی یہ حرکت نہ گئی، پڑھاتے تھے لیکن چوری کرتے تھے، لیکن آخر کب تک پردہ پڑا رہتا، ایک مرتبہ سفر میں گئے ایک شخص کی اٹیچی پر ہاتھ مارا، تحقیق کے بعد جب معلوم ہوا توپکڑے گئے اور بری طرح جوتوں سے خبر لی گئی، پھر تھا نہ لے جائے گئے اور وہاں بھی ان کی خبر لی گئی بری گت بن گئی، اور بڑی بدنامی ہوئی، ایسے ذلیل ورسوا ہوئے کہ منھ دکھانے کے قابل نہ رہے، بالآخر جہاں رہتے اور پڑھاتے تھے وہاں واپس نہیں گئے کہ کیا منھ لے کر جائیں گے، وہیں سے پاکستان بھاگ گئے یہ حال ہوتا ہے ایسے لوگوں کا ، اللہ بچائے ایسی عادت سے اور ا یسی ذلت سے۔