مجالس صدیق جلد 1 |
§فادات ۔ |
|
ہی وہ عبادت ہوگا، عبادت کہتے ہی اس کو ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق ہو، چودہ سو برس پہلے ظہر کی جتنی رکعتیں پڑھی جاتی تھیں آج بھی اتنی ہی پڑھی جاتی ہیں اس میں کمی وزیادتی نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ عبادت ہے اور عبادت اسی کو کہتے ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کے مطابق ہو، مسلمان کا تو ہر کام عبادت ہوتا ہے، اس کا چلنا پھرنا سونا جاگنا بھی عبادت ہوتا ہے لیکن جن کاموں کو ہم عبادت کہتے اور سمجھتے ہیں کم از کم ان کو تو عبادت کے طریقہ پر کریں ان میں سے ایک نکاح بھی ہے اس کو عبادت سمجھ کر عبادت کے طریقہ پر مسجد میں کرنا چاہئے، دعاء کرو اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔مسجد میں نکاح کی مشروعیت اسی وجہ سے ہے کہ اس میں طرح طرح کی خرافات اور رسوم ورواج کی نوبت ہی نہ آئے حضرت اقدس کا کانپور میں پروگرام تھا عشاء کے بعد ایک نکاح میں حضرت کو شریک ہونا تھا احقر حضرت کے ساتھ تھا لیکن والد صاحب تشریف لائے ہوئے تھے، اس لئے ملاقات کی وجہ سے عشاء کے بعد حضرت کے ساتھ نہ جاسکا۔ احقر چونکہ حضرت والا کی زیرنگرانی حضرت اقدس کے ملفوظات اوراصلاحی باتیں لکھتا رہتا ہے اس لئے حضرت کی عادت ہے کہ احقر کی غیر موجودگی میں کوئی اہم بات فرماتے تو احقر کو بلوالیتے اگر وقت پر موجود نہ ہوا تو دوسرے وقت احقر کے سامنے اس کا اعادہ اور خلاصہ بیان فرماتے اور کبھی یہ فرماتے کہ اس کو بھی لکھ لینا، اس موقع پر احقر حضرت کے ساتھ نکاح میں شریک نہ ہوسکا لیکن دوسرے روز حضرت اقدس نے احقر سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ کل نکاح میں تھوڑی دیر تقریر ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے کام کی بات کہلوادی، پھر حضرت نے بطور خلاصہ کے اس کا اعادہ فرمایا تاکہ احقر اس کو لکھ لے، وھو ہذا۔ حضرت نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اَعْلِنُواالنِّکَاحَ واجعلوہ فی المساجد،(مشکوٰۃ شریف ‘‘یعنی نکاح اعلان