مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
تقدیر کے آگے تدبیر کی ناکامی حضرتؒ کے چچا کی وفات کا حال فرمایا احقر کے چچا نماز کے بڑے پابند تھے اور خود بڑے حکیم بھی تھے، ایک مرتبہ رمضان کی چودہ تاریخ کی تراویح پڑھیں اور گائوں کے کنارے جہاں اب مدرسین کے مکانات بنیں ہیں ، پہلے وہاں ایک چھوٹا سا تالاب تھا، رات کے وقت وہیں قضاء حاجت کے لئے آئے تھے، وہیں ایک زہریلے جانور نے کاٹ لیا جس کو بچھکا پڑ کہتے ہیں ، واقعی بڑا زہریلا جانور ہوتاہے اس میں آدمی بچتا نہیں ، حکیم تھے فوراً سمجھ گئے، گھرآئے زبان تو اسی وقت بند ہوچکی تھی بات نہیں کرسکتے تھے لیکن خود بڑے حکیم تھے اس کا علاج بھی جانتے تھے، جلدی سے قلم کاغذ منگاکر نسخہ لکھا کہ یہ یہ دوا منگالی جائے اتفاق کی بات کہ جس جس دوا اور جڑی بوٹی کی ضرورت تھی سب آسانی سے مل گئیں ایک چیز مور کی بیٹ وہ نہیں مل رہی تھی، رات کے وقت کچھ لوگ روشنی کرکے جنگل کی طرف مورکی بیٹ تلاش کرنے گئے اس زمانہ میں مور یہاں بہت رہتے تھے، اتفاق کی بات کہ مور کی بیٹ بھی لے آئے لیکن وقت آہی چکا تھا اور وقت آجانے کے بعد پھر کوئی تدبیر کام نہیں کرتی، اسی میں انتقال ہوگیا، میں اس وقت باندا میں تراویح پڑھا رہا تھا، اسی دن ختم ہونے والا تھا جب مجھے معلوم ہوا فوراً آیا اور تجہیز وتکفین ہوئی۔امرودہا ضلع کانپور میں دوران جلسہ پتھر پھینکنے والا قصہ تقریباً ۳۹۷ ۱ھ کا واقعہ ہے کہ احقر کے وطن قصبہ امرودھا ضلع کانپور میں جہاں اہل بدعت کا غلبہ ہے بدنصیبوں نے حضرت اقدس مولاناسید صدیق احمد صاحبؒ کا پتلا بنا کر پورے قصبہ میں گھمایا، اس کی توہین کی اور پھر جلادیا ، حضرت اقدس کے بعض مریدین اوراحقر کے والدین وغیرہ بڑی تنگی اور گھٹن کی زندگی بسر کررہے تھے، قتل تک کی دھمکیاں دی گئیں ، حضرت ؒ کے متعلقین کو مسجد میں نماز نہ پڑھ سکنے کا سخت افسوس ہوتا