مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
فقیہ ومفتی کیلئے فن بلاغت ومعانی سے بھی واقفیت ضروری ہے احقر نے عرض کیا کہ فقہاء نے لکھا ہے کہ فقیہ ومجتہد کو علم بلاغت میں بھی مہارت ضروری ہے، بلاغت ومعانی کی فقہ میں کیا ضرورت ہے ؟ فرمایا محاورات کی وجہ سے اس کی ضرورت پیش آتی ہے، کیونکہ محاورات کے بدلنے سے بھی احکام بدل جاتے ہیں ، کبھی لہجہ اور انداز بیان کے بدلنے سے معانی میں فرق پڑجاتا ہے، اور یہ سب باتیں بلاغت ومعانی ہی کی مدد سے اچھی طرح سمجھ میں آتی ہیں ۔ مولانا یعقوب صاحبؒ نے اپنے ایک شاگرد سے فرمایا تھا کہ تم نے مختصر المعانی پڑھ لی ، جائو بازار جائو، دیکھو کہ لوگ بلاغت کے اصول استعمال کرتے ہیں یا نہیں ؟ چنانچہ گئے اور واپس آکر جواب دیا کہ نہیں ، فرمایا کہ تم نے بلاغت پڑھی نہیں ، ورنہ بلاغت ومعانی کے اصول تو ہر زمانہ میں اور ہر قوم میں رائج ہیں ، دیہاتی اور جاہل بھی اس کو استعمال کرتے ہیں ۔ڈاڑھی منڈانے اور کترانے والے حافظوں پر یہ پابندی مت لگائو کہ تراویح نہ پڑھائیں بلکہ یہ کوشش کرو کہ شرع کے مطابق ڈاڑھی بھی رکھ لیں حضرت اقدس ؒ گاڑی میں تشریف لے جارہے تھے، کانپور کے قاری نفیس صاحب بھی رفیق سفرتھے، درمیان میں طلبہ کی بدحالی اور بداعمالی کا ذکر ہوا، قاری صاحب نے عرض کیا کہ اب تو طلبہ مدرسہ ومسجد میں ٹوپی لگاتے ہیں باہر نکلے تو سر سے ٹوپی اتار لیتے ہیں ، میں نے اپنے یہاں شرط لگادی ہے کہ جو میرے مدرسہ میں پڑھے گا اس کو ہر جگہ ٹوپی لگانا ضروری ہے۔ ڈاڑھی کٹانے کا بھی رواج بہت ہوتا جارہا ہے، ایسے حفاظ جو ڈاڑھی کٹاتے یا منڈاتے ہیں اور رمضان کے قریب تھوڑی سی رکھا لیتے ہیں ، قاری صاحبؒ نے ان کے متعلق دریافت کیا حضرت نے فرمایا ہے تو غلط(ایسے شخص کی امامت مکروہ تحریمی ہے)