مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
باب ۸ علمی نکتے اور متفرق ارشادات عقل کی فضلیت (۱) جو زیادہ عقل مند ہے وہ دنیا اور آخرت میں کم عقل سے فضیلت رکھتا ہے۔ (الحدیث) (۲) شیطان پر کوئی چیز ایک عاقل مومن سے زیادہ شاق نہیں حالانکہ وہ سو جاہلوں کو برداشت کر لیتا ہے۔ (۳) لقمان علیہ السلام کا قول ہے اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ عقل سے کام لینے والے کے اعمال بھی سب سے اچھے ہوتے ہیں ، جس عبادت میں عقل کو کام میں لایا گیا اس سے زیادہ کوئی عبادت اللہ تعالیٰ کی نہیں ہوسکتی۔ (۴) مطرف فرماتے ہیں کہ بندہ کو ایمان کے بعد عقل سے زیادہ کوئی افضل چیز نہیں دی گئی۔ (۵) حضرت معاویہؓ فرماتے ہیں کہ لوگ حج، عمرہ، جہاد، نماز، روزہ، سب ہی کچھ کرتے ہیں ، مگر اجر میں سب برابر نہیں ، قیامت میں عقلوں کی تعداد کے مناسب ہی ان کو اجر دیا جائے گا۔(بیاض صدیقی)اشتقاق عقل ثعلب کا قول ہے کہ اس کے اصل معنی امتناع(روکنا) ہیں کہا جاتا ہے، عقلت الناقۃؔ اور عقل بطن الرجلؔ ۔(بیاض صدیقی)