مجالس صدیق جلد 1 |
§فادات ۔ |
|
آوری کا وقت قریب آیا تو منو بھائی چونکہ بڑے بااثر اور بااقتدار تھے اپنی کوشش سے بہت سے لوگوں کو قاری صاحب کے استقبال کے لئے جمع کیا، اور مجمع کے ساتھ قاری صاحب کو لینے کے لئے اسٹیشن پہنچے، پورا اسٹیشن اور پلیٹ فارم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، بڑا شاندار استقبال ہوا، اتنا بڑا مجمع کسی کے استقبال کے لئے باندا میں کبھی نہیں ہوا، کسی بڑے سے بڑے عہدے دارکی آمد پر بھی اتنا مجمع نہ ہوتا تھا، باندا والوں نے کسی کے استقبال میں اتنا بڑا مجمع پہلی بار دیکھا تھا، بھرے مجمع کے بیچ سے قاری صاحب تشریف لائے فرشتہ صفت انسان نورانی چہرہ سب دیکھتے رہ گئے۔اہل بدعت کی فتنہ انگیزی اور ناکام سازش باندا کے بدعتیوں کو جب علم ہوا کہ قاری محمد طیب صاحب دیوبندی تشریف لارہے ہیں تو انہوں نے بڑا شور برپا کیا کہ وہابیوں کا امام آرہا ہے پورا زور لگادیا کہ باندہ کی سرزمین میں قاری صاحب تشریف نہ لاسکیں ، کوتوالی میں جاکر اطلاع کردی کہ ان کے آنے سے فتنہ کا خطرہ ہے، دیگر افسران سے مل کر پابندی لگانا چاہی تھی لیکن شمیم محسن کے والد صاحب خود مجسٹریٹ تھے، بڑے افسر ان سے ان کے گہرے روابط تھے، اس لئے مخالفیں کی کچھ نہ چلی، بدعتیوں نے بڑا زور لگایا اور بہت شور وغل مچایا بڑے بڑے لوگوں کے پاس جاکر کہا کہ ان کو ہر گز نہ آنا چاہیے، پولیس داروغہ سب سے ملے، جب زیادہ تدبیریں کیں تو شمیم محسن صاحب نے ایک اور تدبیر اختیار کی اور یہ کیا کہ سب کی دعوت کردی مخیر آدمی تھے، اللہ نے خوب دیا بھی تھا چنانچہ عمومی پیمانہ پر بانداکے تمام بڑے بڑے لوگوں کی دعوت کردی اور اس طرح سب کا منھ بند کردیا، جب ہرطرف سے مخالفین ناکام ہوئے تو ایک تدبیر اور اختیار کی کہ اطراف او ر دیہاتوں میں جاجاکر پروپیگنڈہ کیا کہ ایک وہابی کافر آرہا ہے کوئی اس سے ملنے نہ جائے اس کی تقریر نہ سنی جائے پورا علاقہ میں ہلچل مچ گئی اور ان لوگوں نے پورا زور لگا دیا کہ ایک آدمی بھی جلسہ میں شریک نہ ہونے پائے، منو بھائی کو جب اس کا علم ہوا تو