مجالس صدیق جلد 1 |
§فادات ۔ |
|
یہ اللہ کی تقدیر کا فیصلہ ہے کہ اس نے تم کو یہاں بھیج دیا اب اس کے فیصلہ پرراضی رہنا چاہئے، اور جب اللہ نے بھیج دیا ہے تو سال بھر تک کے لئے تو طے ہوگیا کہ یہاں سے جانا نہیں ہے، اب اپنے آپ کو مدرسہ والوں کے حوالہ کردو جو قوانین اور ضوابط مدرسہ والوں نے مقرر کئے ہیں ان کے مطابق عمل کرنا طے کرلو۔نماز اور سبق کی حاضری انھیں اصول میں سے ایک چیز حاضری بھی ہے، یہاں کا یہ معمول ہے کہ درجہ میں سبق کے لئے اور مسجد میں نماز کے واسطے حاضری لی جاتی ہے، ہوناتو یہ چاہئے کہ حاضری ہو یا نہ ہو لیکن نماز میں کوتاہی نہ ہونا چاہئے، سونے کے واسطے کھانا کھانے کے واسطے حاضری اور نگرانی کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ یہ طبعی چیزیں ہیں انسان خود سوتا ہے کھاتا ہے اور اس کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ طالب علم کی نمازمیں حاضری لی جائے، سبق میں حاضری لی جائے؟ یعنی مدرسہ میں آنے کا جو مقصود ہے اس میں حاضری کی ضرورت پیش آئے، مقصود کے لئے تو حاضری لی جائے اور غیر مقصود (یعنی کھانا پینا سونا) آدمی خود کرلے، قرون اولیٰ میں اس کی کہیں نظیر نہیں ملتی کہ درجہ میں طلباء کی اس انداز سے حاضری لی گئی ہو۔قاری عبدالرحمن صاحب پانی پتی کاواقعہ حضرت قاری عبدالرحمن صاحب پانی پتیؒ کا واقعہ ہے کہ کبھی بھی ان کے سبق کا ناغہ نہیں ہوا، ایک میل پیدل چل کر آنا جانا آسان کام نہ تھا پھر اس زمانہ میں تو بہت ہی مشکل تھا، رات کو سفر کرنا پڑتا تھا، لیکن کبھی سبق کا ناغہ نہیں کیا۔ پاس میں چراغ تک کے پیسے نہ ہوتے تھے طلبۃ رات میں ٹہلتے رہتے تھے جہاں روشنی ملتی وہاں جاکر کتاب دیکھتے تھے، بعض طلبۃ یہ کرتے تھے کہ کسی دکاندار سے کہہ دیا