مجالس صدیق جلد 1 |
§فادات ۔ |
|
اپنے بڑوں اوربزرگوں سے ربط رکھنے کی اہمیت فرمایا:آدمی اپنے بڑوں سے تعلق نہیں رکھتااور خود کو ان سے بڑا سمجھتا ہے۔ہر کام اپنی مرضی سے کرتا ہے،نہ بڑوں سے رہنمائی حاصل کرتا ہے نہ کسی سے مشورہ لیتا ہے نہ بزرگوں اور اللہ والوں سے ملاقات کرتا ہے،اسی لئے آج کل ہمارے کاموں میں برکت نہیں ہے اور جو فیض ہونا چاہئے وہ فیض نہیں ہورہا ،مشورہ میں اللہ تعالیٰ نے خیروبرکت رکھی ہے،جو کام بھی مشورہ کے بعد کیا جاتاہے اس میں خیر وبرکت ہوتی ہے۔اس لئے جوکام کرنا ہو پہلے اپنے بڑوں سے ضرور پوچھ لیا کرے، ان سے مشورہ لے لیا کرے،خودرائی سے کبھی نہ کام کرے،پھر انشاء اللہ خیروبرکت ہوگی آج کل لوگ مدرسہ چلاتے ہیں خود ہی مدرسہ کھول لیا اور بن گئے مہتمم اور ناظم ،سب کچھ اپنے اختیار میں ہے اب نہ کسی سے پوچھنا ہے نہ مشورہ کرنا ہے،جس کو چاہا رکھا جس کو چاہا نکال دیا،اسی لئے آج کل مدارس میں خیر نہیں اور نہ ہی اصلاحی کام ہوپاتا ہے۔اور نہ ہی وہ فیض ہوتا ہے جو ہونا چاہئے۔بزرگوں سے ربط رکھنے کا طریقہ فرمایا:حضرت عبدالرحمن ابن قاسمؒحضرت امام مالکؒ کی خدمت میں بیس سال رہے ہیں اٹھارہ سال تک تو علم ادب واخلاق(اصلاح نفس)سیکھا،اور دوسال تعلیم حاصل کی، اور ٓاج کل ہمارے یہاں علم وادب واخلاق اور اصلاح نفس کا کوئی خانہ ہی نہیں ، آج یہاں ہیں تو کل وہاں ۔ایک سال اس مدرسہ میں ایک سال دوسرے مدرسہ میں ،اسی طرح ناچا کرتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ نہ تو علمی صلاحیت اور پختہ استعداد پیداہوتی ہے اور نہ ہی باطن کی اصلاح ہوتی ہے،کیونکہ اصلاح نفس اور باطنی فیوض جو بزرگوں سے حاصل ہوتے ہیں وہ تومحبت اور عقیدت کے بعد ہوتے ہیں اورمحبت وعقیدت فوراً نہیں پیدا ہوجاتی بلکہ رفتہ رفتہ ہوتی ہے۔ جب محبت ہوجاتی ہے تو آہستہ آہستہ اس کے اخلاق کا اس پر اثر پڑتا ہے۔