مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
فصل تقویٰ کی اہمیت فرمایا تقویٰ بہت بڑی چیز ہے، اکابرین اور بزرگان دین میں تقویٰ ہی کی صفت پائی جاتی تھی، آج کل لوگ لکھ پڑھ تو لیتے ہیں لیکن عمل واخلاص اور تقویٰ سے بالکل کورے ہوتے ہیں حالانکہ اصل چیز تقویٰ ہے، اور تقویٰ اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب زمانہ طالب علمی سے اس کی عادت ڈالی جائے۔حضرت شاہ وصی اللہ صاحبؒ کا حال حضرت شاہ وصی اللہ صاحبؒ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ حضرات سنت کا بہت اہتمام فرماتے تھے، ایک مرتبہ حضرت شاہ ؒ کو مسواک کی ضرورت تھی اور مسواک تھی نہیں ایک نیم کا درخت تھا اس سے لے سکتے تھے لیکن وہ درخت کسی ایک آدمی کی ملک نہ تھا بلکہ کئی آدمیوں کا مشترک تھا تو جتنے آدمی اس درخت میں شریک تھے ان سب سے اجازت لی تب مسواک لی، یہ تقویٰ آخر ان کو کب نصیب ہوا؟ جب شروع ہی سے اور زمانہ طالب علمی ہی سے اس کی عادت ڈالی، پھر دیکھئے اللہ نے ان سے کتنا کام لیا، اور کیسا انہوں نے اصلاح کا کام کیا، کتنے لوگوں میں تقویٰ کی صفت پید ا ہونے کا ذریعہ بنے، کتنوں کو تقویٰ والا بنایا، جس کے اندر خود موجود ہوتا ہے، اس کی بات کا اثر ہوتا ے اس کی تربیت میں برکت ہوتی ہے، ان کے اندر تقویٰ موجود تھا اس کی برکت سے لوگوں میں تقویٰ پیداہوا، اور اگر خود ہی کسی کے پاس موجود نہ ہو تو وہ دوسروں کو کیا دے سکتا ہے۔