مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
ت کے بارے میں بھی تو سو چنا چاہئے، آخرت کے جو امور ہیں انکو اختیار کرنے سے ہی آخرت بنے گی، جنت میں جانے کے جو اسباب ہیں ان اسباب کو اختیار کیا جائے، تب ہی جنت ملے گی، محض دوسروں کے کرنے سے کچھ نہ ہوگا جب تک خود کچھ نہ کرے۔بغیر مجاہدہ وریاضت کے کمالات کی صلاحیت نہیں پید ا ہوتی بخاری شریف کا درس دیتے ہوئے ارشاد فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم شروع میں وحی کی آمد سے قبل خلوت میں رہتے تھے اس وقت خلوت آپ کو نہایت محبوب تھی، غار حرا میں جاکر آپ عبادت وریاضت اور مجاہد ہ کرتے تھے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کمال حاصل کرنے کیلئے پہلے اپنے اندر اس کی صلاحیت پیدا کرنا ضروری ہے، جب صلاحیت پیدا ہوگی تب ہی کمال حاصل ہوگا، صوفیاء کرا م بھی اسی لئے مجاہدات کراتے ہیں ، دیکھئے وحی کا نزول تو بعد میں ہوا خلوت کے ذریعہ مجاہدہ پہلے ہوا، اس سے معلوم ہوا کہ وحی الہٰی اور قرآن پاک کے انوار وبرکات اسی وقت حاصل ہوں گے جب کہ خلوت میں عبادت وریاضت کے ذریعہ پہلے اپنے اندر صلاحیت پیدا کرلے اسی وقت اس کے انوار وبرکات کا اثر ہوگا ورنہ کورا کا کوراہی رہے گا، صرف لکھ پڑھ لینے سے کچھ نہیں ہوتا، آج ان چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں سمجھی جاتی۔ایسی عبادت، عبادت نہیں جس میں گھروالوں کی حق تلفی ہو اسی ضمن میں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرامیں توشہ لے کر جایا کرتے تھے، بسا اوقات کئی کئی روز تک غار حرامیں قیام فرماتے، تو شہ ختم ہوتا تو پھر گھر تشریف لاتے اور توشہ لے کر حضرت خدیجہ سے اجازت لیتے، پھر واپس تشریف لے جاتے، بغیر اجازت کے نہ جاتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ گھر والوں کا بھی حق ہے کہ ان کے پاس رہا جائے، رات میں بیوی کے پاس رہنا اس کا حق ہے اس کی حق تلفی کرکے عبادت کرنا درست نہیں ایسی