مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
جہاد کا بھوت حضرت اقدسؒ سخت بیمار تھے، سر میں بڑی بے چینی کا درد تھا، کشمیر سے بعض مہمان حضرت سے ملاقات کے لئے آئے تھے، حضرت نے ان سے کشمیرکے حالات دریافت فرمائے، اس وقت کشمیر میں تحریک آزادی زوروں پر تھی، مسلمان جہاد کے نام پر اپنا خون بہارہے تھے، گردنیں کٹارہے تھے، عورتیں بیوہ ہورہی تھیں ، بچے یتیم ہورہے تھے، نوجوان لڑکیوں کی عصمت دری ہورہی تھی، حضرت لیٹے ہوئے تھے، ان کی بعض باتیں اور یہ حالات سن کر سخت غم اور افسوس کی حالت میں اٹھ کر بیٹھ گئے، اور فرمایا کہ کوئی ان لوگوں کو سمجھانے والا نہیں ، کچھ لوگ مل کر بیٹھیں اور ان کو سمجھائیں محض گردن کٹانے سے کیا فائدہ، محض جہاد کے نام پر گردن کٹادی جائے، عورتیں بیوہ ہوجائیں ، یہ کوئی کمال نہیں ، جہاد جہاد چلارہے ہیں ، محض جہاد کا نام رکھ دینے سے کیا جہاد ہوجائے گا،ارے جہاد تو ایک اسلامی چیز ہے، اس کے اصول وشرائط ہیں جب وہ شرائط پائے جائیں ، اور اصول کے ساتھ کیا جائے تب کہیں جاکر جہاد ہوگا، یہ تھوڑی کہ محض جہاد کا نعرہ لگادینے اور گردنیں کٹادینے سے جہاد ہوجائے انجام پربھی تو نظر رکھی جائے کہ اس کاانجام کیا ہوگا، ایک کے پیچھے سو کی جانیں جاتی ہیں ،جہاں پاتے ہیں مارتے ہیں ، کتنی عورتیں بیوہ ہوجاتی ہیں ، نوجوان لڑکیوں کی عزت لوٹی جاتی ہے، دوسرے ملکوں تک اس کا اثر پڑتا ہے، معلوم نہیں کون ان کو سمجھا رہا ہے کہ جہاد کرو، جوبھی ان کو مشورہ دے رہا ہے غلط مشورہ دے رہا ہے، پاکستان اگر مشورہ دے رہا ہے وہ بھی غلط کررہا ہے، پاکستان دوسروں کی کیا حفاظت کرے گا، اپنے ملک کی حفاظت تو کرنہیں پاتا، پاکستان بننے کے وقت بھی کتنا خون خرابا ہوا اور بعد میں بھی چین سکون کی زندگی نصیب نہ ہوئی، وہاں بھی مارے کاٹے جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے یہاں کے مسلمان بھی پیسے جاتے ہیں ، کرے کوئی بھرے کوئی۔ کشمیر کے متعلق فرمایا کہ اچھے خاصے اطمینان سے وہ رہ رہے تھے، نماز روزہ کرتے، اعمال واخلاق کی تبلیغ کرتے ان اعمال کی تبلیغ کرتے جن سے اللہ راضی ہوتا