مجالس صدیق جلد 1 |
§فادات ۔ |
|
باب ۷ اہم حادثات ایک حادثہ مدرسہ کا ایک طالب علم ہردوئی کا رہنے والا بڑا نیک، دیندار،باادب نوجوان ہونہار فرزند تھا، عربی فارسی کی پہلی منزل (سال اول) ہی میں قدم رکھاتھا، صبح کی نماز باجماعت ادا کی قرآن پاک کی تلاوت کی، درجہ میں حاضری دی، پہلا گھنٹہ احقر راقم الحروف کے پاس تھا، دوپہر کا کھانا اپنے ایک استاد اور ساتھیوں کے ساتھ کھایا، کھانے کے بعد قیلولہ کیا تھوڑی دیر بعد اٹھ کر کھڑا ہوا، استنجاء سے فراغت کی اور غسل کرنے کے لئے تالاب اپنے ساتھیوں کو اصرار کے ساتھ لے کر تیزی سے دوڑ کر چل دیا، (کسے معلوم تھا کہ یہ ساری چستی اور تیزی اس کو موت لئے جارہی ہے) تالاب پہنچ کرغسل تو باہر ہی کیا اور تالاب میں اندر جانے کے لئے تیار ہوا تو ساتھیوں سے بے تکلف ہوکر کہا کہ جب غسل کیا کرو تو دعاء اور بسم اللہ پڑھ لیا کرو، یہ کہہ کر بسم اللہ پڑھ کر غوطہ لگایا، غوطہ لگانے کے بعد پھر اس کے جسم نے جنبش نہ کی، کسے معلوم تھا کہ یہ مہمانِ رسول پانی میں نہیں اب جنت میں غوطہ لگانے جارہا ہے، جب کافی دیر ہوگئی، دس پندرہ منٹ کے بعد بھی نظر نہ آیاتو ساتھیوں کو فکر ہوئی کہ آخر گیا تو کہاں ؟ چند طلبہ کودے بالآخر ڈھونڈھ ڈھانڈھ کر نکال کر باہر لائے لیکن اس وقت وہ دم توڑ چکا تھا اور غوطہ لگانے کے بعد پوری طرح جنت کے باغ میں پہنچ چکا تھا، لاش لائی گئی مہمان کے قریب گیٹ سے متصل رکھی گئی، ان کے والدین کو اطلاع کرکے بلایا گیا، لاش سامنے رکھی ہوئی تھی، دیکھتے ہی والد صاحب کا برا حال ہوگیا، حضرت کو دیکھتے ہی بے قابو ہوگئے چمٹ کر بے