مجالس صدیق جلد 1 |
§فادات ۔ |
|
کوشش کے بعد پختہ مکان بنوایا اور حضرت شاہ عبدالقادر صاحب کو اطلاع دی کہ مکان بن گیا حضرت رائپوریؒ نے فرمایا پختہ مکان بن گیا بڑی خوشی کی بات ہے، راحت کا مکان ہے اللہ کی بڑی نعمت ہے، لیکن مجھے تو یہی پسند ہے کہ کچا مکان ہوتا، بارش ہوتی تو کبھی چارپائی ادھر کھسکاتے کبھی ادھر کھسکاتے، (اس حالت پر اللہ کو پیار آتا، یہ حضرت شاہ صاحبؒ کا طبعی مزاج تھا)۔دل سے ذکر جاری ہوجانے کامطلب فرمایا پابندی سے ذکرکرتے کرتے کبھی یہ حالت ہوجاتی ہے کہ اس کے قلب سے ذکر جاری ہونے لگتا ہے، اس کا قلب ہر وقت اللہ کی طرف متوجہ ہوتاہے کبھی ادھر سے غافل نہیں ہوتا،اپنے دل سے وہ ہروقت اللہ کو یاد کرتا ہے وہ کسی بھی کام میں لگا ہو اس کے سارے اعضاء ہاتھ پیر آنکھ کان زبان ہر ایک اپنے اپنے کام میں مشغول ہوں لیکن دل اللہ کی طرف متوجہ رہتا ہے، لطائف ستہ جس کے جاری ہوتے ہیں اس کو یہ بات نصیب ہوتی ہے کثرت ذکر کی بدولت اللہ پاک یہ مقام نصیب فرمادیتا ہے۔ایک بزرگ کا واقعہ ایک بزرگ کا قصہ لکھا ہے کہ وہ چلے جارہے تھے کچھ مریدین اور خدّام ساتھ تھے جاتے جاتے اک دم سے ایک دکان کے پاس ٹھہر گئے، دکاندار کو کھڑے دیکھتے رہے، دکاندار اپنے کام مشغول تھا نہ لینا نہ دینا نہ کوئی گفتگو کی تھوڑی دیر ٹھہر کر آگے چل دیئے بعض خدام نے اس کی وجہ پوچھی ان بزرگ نے فرمایا میں اس دکاندار کو دیکھ کر تعجب کررہا ہوں کہ یہ شخص کتنا مصروف ہے، اور اس کی زندگی کتنی مشغول ہے یہ سامان لائو وہ سامان لائو ہاتھ پیر زبان سب مشغول ہیں لیکن اس کے باوجود اس کا قلب ایک آن بھی اللہ کی طرف سے غافل نہیں ہر آن ہر لمحہ اللہ کی طرف متوجہ ہے، اللہ کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں کرتا، ایسے بھی اللہ کے بندے گذرے ہیں اللہ ہمیں بھی ایسا بنادے۔