مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
گمنامی کی زندگی بہتر ہے فرمایا مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے کچھ کام نہیں کرپاتا، جہاں لکھنے بیٹھتا ہوں کوئی نہ کوئی آجاتا ہے جب سے یہ بس چلنے لگی اور زیادہ پریشانی ہوگئی، جس زمانہ میں بس نہ چلتی تھی، بہت کم لوگ آتے تھے، حضرت مفتی محمود صاحبؒ نومیل (ایک مقام کا نام )سے ہتورا کئی مرتبہ پیدل تشریف لائے ہیں ، حضرت سے بار بار عرض کرتا کہ دعاء کردیجئے کہ سڑک بن جائے اور ہتورا تک بس آنے لگے، مفتی صاحب فرماتے میں کبھی دعاء نہیں کروں گا، بس چلے گی تو بھیڑ جمع ہوگی پریشان ہوجائو گے اس وقت تو سمجھ میں نہیں آیا لیکن اب سمجھ میں آرہا ہے کہ جب سے بس چلنے لگی بالکل بے بس ہوگیا، کچھ کام ہی نہیں کرپاتا پہلے تھوڑے لوگ ہوا کرتے تھے، تھوڑی دیر میں سب کاکام کردیا اور اپنے کام میں لگ گیا اب توبھیڑ کی بھیڑ آتی ہے۔کام تو گمنامی ہی میں ہوتا ہے ، شہرت کے بعد کام نہیں ہوپاتا۔حضرت کے پیر ومرشد حضرت ناظم صاحبؒ کا حال فرمایا حضرت ناظم صاحبؒ (یعنی حضرت مولانا اسعد اللہ صاحب حضرت اقدسؒ کے پیر ومرشد) کا مزاج یہ تھا کہ ہر آنے والے سے اسی کے حال ومزاج کے مطابق گفتگو فرماتے تھے، کاشتکار آتے تو کھیتی اور کاشتکاری کی باتیں کرنے لگتے، شاعر آتا تو شعرو شاعری کی باتیں کرنے لگتے، انگریزی داں آتا تو اس سے انگریزی میں باتیں کرنے لگتے، معلوم ہوتا کہ کوئی بی، اے، ایم، اے، کا ماہر بات کررہا ہے، بہت روانی سے بے تکلف انگریزی بولتے تھے، لیکن لکھتے کبھی نہ تھے، انگریزی سے نفرت کرتے تھے، قادر الکلام تھے لیکن بلاضرورت اس کا استعمال نہ فرماتے تھے۔شاہ عبدالقادر صاحب کا حال فرمایا مولانا حبیب الرحمن صاحب کاندھلویؒ حضرت شاہ عبدالقادر صاحب کے مرید تھے، کثرت سے خدمت میں حاضر ہوتے تھے، کچے مکان میں رہتے تھے، بڑی