مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
تھانے دار نے کہا جب حضرت ہی منع فرمارہے ہیں تو میں کیا کروں ورنہ ایک ایک کو میں بتلاتا۔مدرسہ سے ایک طالب علم کا اخراج مدرسہ کا ایک طالب علم بڑا شریر تھا، گائوں کے غلط قسم کے لڑکوں سے اس کے گندے تعلقات تھے اور بہت سی اس کی شکایتیں آچکی تھیں ، اس کو بہت سمجھایا گیا، اصلاح کی کوشش کی گئی، لیکن اپنی حرکت سے باز نہ آتا تھا، گندے لڑکوں کے ساتھ رات میں ٹہلا کرتا تھا اور خطرہ تھا کہ پھر رات میں غلط لڑکوں کے ساتھ فرار ہوجائے، اس لئے حضرت نے اس کو ایک کمرہ میں علیحدہ بند کرادیا باہر سے تالا ڈال دیا اور دو معتبر لڑکے پہرہ دار کی طرح مقرر کردیئے، وقت پر کھانا دیا گیا، پیشاب پاخانہ سے فراغت نگرانی میں کرائی گئی، اور صبح کو ناشتہ کراکر ایک مدرس کے ساتھ اس کے گھر اس کو روانہ کردیا، اور اس کے والدین کے پاس وجہ اخراج اور اس کے حالات کے متعلق ایک پرچہ تحریر فرمادیا۔کتوں پر ظلم کرنے کے نتیجے میں طلبہ کے اخراج کی دھمکی مدرسہ ہتورا دیہات میں واقع ہے کبھی مدرسہ کے احاطہ میں کتے بھی آجاتے ہیں ، ایک مرتبہ لڑکوں نے ازراہ شرارت ایک کتے کو کمرہ کے اندر بند کرکے بہت مارا، مارتے مارتے اس کے پیر توڑدیئے، حضرت کو اس کا علم ہوا، فجر بعدطلبہ سے مخاطب ہوکر فرمایا، تم لوگوں کو شرم نہیں معلوم ہوتی، اللہ کی مخلوق کو ستاتے ہو، ان کو مارتے اور پریشان کرتے ہو، کتوں کے پیر توڑڈالے، یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے، کوئی تمہارے ہاتھ پیر توڑ ڈالے تو تمہارا کیا حال ہو، کیا مدرسہ میں تم لوگ اسی لئے آئے ہو اور تمہارا یہی مشغلہ ہے؟ جن لڑکوں نے یہ حرکت کی ہے ان کی فہرست میرے پاس آجانا چاہئے ان کا کھانا بند اور ان طلبہ کا اخراج کردیا جائے گا۔