مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
نہیں مانے اور اصرار کرتے رہے لیکن حضرت نے قبول نہیں فرمایا، حضرت نے دوسرے صاحب سے جو ذمہ دار اور سمجھ دار تھے ان سے فرمایا کہ ان کو سمجھا دیجئے، میرا مزاج ایسا نہیں ہے میں اس طرح کا آدمی نہیں ، میں تو اس طرز کو بھی صحیح نہیں سمجھتا اس کو میں اشرافِ نفس سمجھتا ہوں میں دوسروں کو تو منع کرتا ہوں اور خود لے لوں یہ کیسے ہوسکتا ہے، اور اس طرح لینے کو غیرت کیسے گوارہ کرسکتی ہے، اگر میں نے ضرورت کا اظہار نہ کیا ہوتا تو بات دوسری تھی، اگر ان کو بالٹی دینی ہے تو مجھ سے پیسے لے کردیں بغیر پیسے کے میں نہیں لوں گا، ان صاحب نے کہا تھوڑے پیسے دے دیجئے، حضرت نے فرمایا رعایت کرنا دوسری بات ہے نفع نہ لیں لیکن بغیر قیمت کے میں اس کو نہیں لوں گا چنانچہ حضرت نے بالٹی کی قیمت ادا فرمائی اور بالٹی ساتھ آگئی۔مدرسہ کا ناظم بننا بہت بڑی ذمہ داری ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ کا واقعہ ہے کہ ان کے دور خلافت میں دودھ میں پانی ملانے کا رواج ہوگیا آپ کو فکر ہوئی، اعلان کردیا کہ اب کوئی دودھ میں پانی نہیں ملائے گا، چنانچہ لوگوں نے دودھ میں پانی ملانا بندکردیا، ایک مرتبہ کی بات ہے کہ آپ رات کے وقت گشت فرما رہے تھے، حالات کا جائزہ لے رہے تھے کہ کون کیا کررہا ہے، ذمہ داری اس کا نام ہے، ذمہ داری سنبھالنا آسان کام نہیں ، مدرسہ کا ناظم بننا بہت بڑی ذمہ داری ہے، آج کل جس کو دیکھو مدرسہ چلانے اور ناظم بننے کو تیار ہے اور ذمہ داری کا کچھ احساس نہیں ، ذمہ داری بہت بڑا کام ہے، اس کے لئے قربانی دینا پڑتی ہے آرام ونیند سب کچھ قربان کرنا پڑتا ہے اسی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ سب کچھ کرے لیکن مدرسہ کا ناظم کبھی نہ بنے، آج کل لوگوں میں احساس ذمہ داری نہیں خوف خدا نہیں ، اگر یہ پیدا ہوجائے تو اصلاح ہوجائے، اسی احساس ذمہ داری اور خوف خداکا اثر تھا کہ حضرت عمر ؓ گشت فرمارہے تھے، ایک گھر کے اندر سے آواز آئی کہ بیٹی دودھ میں پانی ملادے، بیٹی نے جواب دیا کہ