مجالس صدیق جلد 1 |
§فادات ۔ |
|
ابن مبارکؒ کا حال فرمایا ابن مبارکؒ کا عجیب وغریب معمول تھاتین ماہ پڑھاتے تھے، تین ماہ جہاد کرتے تھے، تین ماہ وعظ وتقریراور تبلیغ کرتے تھے، اور تین ماہ تجارت کرتے تھے، لیکن ان کی تجارت ایسی نہ ہوتی تھی جیسی آج کل کی ہوا کرتی ہے کہ نماز روزہ سب غائب، ان کی تجارت ان کو غفلت میں نہیں ڈالتی تھی۔مدارس میں منصب اور کتابوں کی تقسیم میں انصاف پسندی حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کا واقعہ فرمایا حضرت تھانویؒ کانپور میں پڑھاتے تھے حضرت ؒ کے خلیفہ مولانا محمد اسحاق صاحبؒ تھے، جو بردوان( بنگال) کے رہنے والے تھے، حضرت تھانوی ؒجب کانپور سے جانے لگے تو مولانا اسحق صاحب کو شیخ الحدیث بنانے کا ارادہ کیا، لوگوں میں اس کا چرچا ہوا مولانا اسحق صاحبؒ چونکہ بردوان کے رہنے والے تھے اس لئے اردو بھی بہت اچھی نہیں تھی اس وجہ سے بھی لوگوں کو ان پر اعتراض تھا، لیکن اس قسم کے معاملات میں صلاحیت دیکھی جاتی ہے صوبہ داری نہیں دیکھی جاتی حضرت تھانویؒ نے ان کی لیاقت وصلاحیت ہی کی بنا پر ان کا انتخاب کیا تھا، لیکن جب لوگوں کو اشکال ہوا تو حضرتؒ نے سب کو جمع فرمایا اور فرمایا تم لوگ کوئی حدیث پڑھو مولوی اسحق تم لوگوں سے سوالات کریں گے چنانچہ لوگوں نے حدیث پڑھی اس پر مولانا نے سوالات کئے وہ معترضین کسی بات کا جواب نہ دے سکے اس کے بعد حضرت نے فرمایا اچھا اب مولوی اسحق پڑھیں گے اور تم سوالات کرنا چنانچہ ان لوگوں نے طرح طرح کے سوالات کئے اور مولانا اسحق صاحب نے تسلّی بخش جوابات دیئے، اس وقت معترضین خاموش ہوگئے۔ حضرت نے فرمایا کسی کوکوئی عہدہ یا کوئی کتاب اس کی صلاحیت کی وجہ سے دی جانی چاہئے، یہ نہیں کہ چونکہ ہمارے دیار کا ہمارے علاقہ کا ہمارے صوبہ کا ہمارے خاندان وبرادری کا ہے اس لئے اس کو دینا ہے، یہ طریقہ غیر منصفانہ ہے۔