مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
نسبت، اجازت وخلافت کی حقیقت منطق کی مشہور کتاب’’قطبی‘‘ کا سبق پڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ لفظ ھوؔموضوع اور محمول کے درمیان رابطہ ہے یعنی موضوع اور محمول کے درمیان ربط لفظھوؔ کے ذریعہ ہوتا ہے، ربط کا واسطہ وذریعہ یہیھوؔ بنتا ہے اسی وجہ سے اس لفظ ہی کو رابطہ کہنے لگے یہی مطلب ہوتا ہے تسمیۃ الدّال باسم المدلول کا یعنی مدلول پر جو شئی دلالت کرنے والی تھی دراصل وہ نسبت ہے لیکن اس پر دلالت کرنے والا لفظ ھوؔ ہے اسی لئے اس کو رابطہ اور نسبت کہہ دیا۔ یہ ہے نسبت کی حقیقت، جو شخص کسی کے ساتھ رہتا ہے، اس کو اس سے نسبت قائم ہوجاتی ہے اس سے رابطہ ہوجاتا ہے، اس کے اخلاق وعادات اس کے اندر منتقل ہوجاتے ہیں جو باتیں اس کے اندر پائی جاتی ہیں وہ اس کے اندر پائی جانے لگتی ہیں اسی کا نام ہے نسبت کہ فلاں کو فلاں سے نسبت اور رابطہ ہے یعنی جو کام فلاں شخص کرتا تھا وہی کام یہ بھی کرتا ہے، اور اسی کا نام ہے خلافت یعنی جو اخلاق وعادات شیخ کے اندر پائے جاتے تھے وہ اس کے اندر بھی پائے جانے لگے، تو اب یہ خود شیخ ہوگیا، شیخ کی نسبت وعادت اور شیخ کے اخلاق اس میں بھی منتقل ہوگئے تو گویا یہ اپنے شیخ کے قائم مقام ہوگیا، اسی کانام ہے خلافت، لیکن یہ حقیقت آج کل کون دیکھتا ہے اب تو بازار گرم ہے۔ فائدہ:۔حضرتؒ نے سمجھانے کے لئے ہے مثال دی ہے، اسی کے قریب حضرت حکیم الامت تھانویؒ نے بھی تحریر فرمایا البتہ اس میں یہ اضافہ بھی فرمایا ہے کہ شیخ کے اندرخداداد اصلاح وتربیت کی صلاحیت واستعداد موجود ہوتی ہے، لہٰذا مصلح وشیخ (خلیفہ) کے اندر اس کا ہونا بھی ضروری ہے محض صالح اور خلیق ہونا شیخ ومصلح بننے کیلئے کافی نہیں ، نیز یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ نائب اور خلیفہ کا اپنے شیخ کے جملہ صفات سے متصف ہونا ضروری نہیں ۔