مجالس صدیق جلد 1 |
§فادات ۔ |
|
کرکے دے دیا حضرت مولانا اس کو دیکھ کر نقل کردیتے تھے، آسان کام تھا، یہاں تو کتاب بھی خود ہی نکالو، تلاش بھی خود کرو اور پھر نقل بھی کرو اس لئے مشکل کام ہے اور مشغولی بڑھتی جارہی ہے، لیکن شاید اللہ تعالیٰ اسی مشغولی میں پوری فرمادے، ایک دن خوب موقع مل گیاتو فجر سے لے کر ظہر تک اور ظہر سے عصر تک اور پھر عصر سے مغرب اور مغرب سے عشاء تک برابر لکھتا رہا، اسی طرح اگر چند روز کا اور موقع مل جائے تو انشاء اللہ بہت جلد پوری ہوجائے گی، جب تک کام کی دھن نہیں ہوتی کام نہیں ہوتا۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ ایک لکھنے والے کو مقرر کر لیجئے آپ بولتے جائیں وہ لکھتا جائے، حضرت نے فرمایا ہونہیں پاتا،خود لکھنے کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے بسااوقات کتاب دیکھتے وقت ذہن میں ایک مضمون اور اس کو لکھنے کی خاص ترتیب ہوتی ہے کہ اس طرح لکھنا ہے لیکن جب لکھنے بیٹھو توذہن میں دوسری نئی باتیں آجاتی ہیں ، ترتیب بھی دوسری آجاتی ہے املاء کرانے میں یہ بات نہیں ہوتی، اپنا اپنا مزاج ہے۔مختصر المعانی اور شرح جامی سے مناسبت مشکل مقامات کو لکھ لینے کی اہمیت حضرت اقدس ؒ مختصر المعانی اور شرح جامی کا برسہا برس سے درس دے رہے ہیں ، یہ کتابیں حضرت کی بہت ازبر ہوگئی ہیں اور نحو وبلاغت کی مشکل سے مشکل بحث کو حضرت ایسے انداز سے سمجھاتے ہیں کہ ادنیٰ درجہ کا غبی طالب علم بھی بہت آسانی سے سمجھ لیتا ہے، حضرت نے فرمایا کیا بتائوں شروع میں چوک ہوگئی مشکل مقامات کو حل کرکے لکھ لیتا تو بہت اچھا رہتا بعد والوں کے لئے آسانی رہتی، محنت تو بہت کی لیکن نہ لکھنے کی وجہ سے دوسروں کو فائدہ نہ ہوسکا۔ مختصر المعانی کا حاشیہ بھی بہت عمدہ ہے لیکن بسا اوقات اس سے بھی کتاب حل نہیں ہوتی اور اردو شرح والوں نے تو ایسا ناس کیا ہیکہ کچھ پتہ ہی نہیں چلتا کیا کہنا