مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
ایک ٹارچ کی چوری کا قصہ اور حضرت کا ارشاد مدرسہ کے ایک استاد فجر کی نماز کے وقت مسجد میں بیٹھے بیٹھے اونگھ رہے تھے، ان کے سامنے سے چپکے سے کسی نے ان کی نئی ٹارچ اٹھاکر غائب کردی، یا چوری کرلی، باوجود تلاش کے نہیں ملی، حضرت نے اس کا اعلان بھی فرمایا تب بھی نہیں ملی، دوسرے دن حضرت نے پھر بعد فجر اعلان فرمایا (مسجد ہی میں کھوئی ہوئی چیز کا مسجد میں تلاش کرنا اور اعلان کرنا جائز ہے) حضرت نے طلبہ کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ آخر اس پڑھنے پڑھانے سے کیا مقصود ہے، اگر اس کے مطابق عمل نہ ہو تو سب بیکار ہے، مسلمان تو وہ ہے جس کی زبان وہاتھ سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو، کسی کی کوئی چیز لے لینا یا چھپادینا، چپل جوتا یا کوئی بھی چیز لے لینا سب ناجائز وحرام ہے، یہ ایذاء مسلم ہے، حقوق العباد کا معاملہ بہت سنگین ہے، دو پیسے کے بدلہ سات سو مقبول نمازیں دے دی جائیں گی، ایک تو سات سو مقبول نمازیں ہوں گی کس کے پاس؟ اس لئے جس کے پاس جس کی جو بھی چیز ہو کسی بہانے سے اس کو واپس کردے، عبداللہ بن مبارکؓ کے پاس کسی دوسرے کا ایک بانس کا قلم رہ گیا تھا میلوں پیدل چل کر اس کو واپس کرنے گئے تھے۔ایسا شخص بہت جلدذلیل ہوتا ہے مدرسہ میں ایک مہمان آئے ہوئے تھے عشاء کی نماز میں مسجد سے ان کی کوئی قیمتی چپل لے گیا، حضرت والا کو اس کی فکر ہوئی، احقر سے فرمایا کہ ان کی چپل تلاش کرو، احقر نے تما م مواقع جہاں چپل اتاری جاتی ہیں خوب اچھی طرح دیکھا لیکن کہیں نہیں ملی، حضرت والا کو سخت پریشانی لاحق ہوئی اور ندامت بھی ہوئی، طلبہ کو جمع کرکے فرمایا چپل کون لے گیا ہے کیا طالب علم ایسے ہی ہوتے ہیں جو چوری کریں ؟ جس کی ابھی سے یہ عادت پڑگئی ہو آگے چل کر اس کی عادت خراب ہوتی ہی چلی جائے گی، ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جب کسی مدرسہ کے مدرس یا مہتمم بن جاتے ہیں تو جی بھر کر خیانت