مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
جامعہ عربیہ ہتورا سے فارغین کا لقب فرمایا آج کل لوگ پڑھتے کہیں اور ہیں اور ایک سال میں جاکر قاسمی مظاہری بن جاتے ہیں ، دار العلوم دیوبند کے فارغین قاسمی اور مظاہر علوم سہارنپور کے فارغین مظاہر ی ہوتے ہیں ، یہاں کے فارغین کو کیا کہا جائے، پھر مسکراکر خود ہی فرمایا کہ للّٰہی (اللہ والا) کہا جائے، واقعی حضرت کے خلوص وللہیت کی برکت کے اعتبار سے یہ لقب مناسب موزوں معلوم ہوتا ہے، لیکن حضرت نے کوئی قطعی رائے نہیں دی بلکہ برسبیل تذکرہ ایک بات فرمادی، واللہ اعلم۔تقریر وتحریر اور بڑوں سے گفتگو میں تصنع وتکلف سے احتراز حضرت اقدسؒ کے ایک شاگرد نے اپنے علاقہ میں ایک دیہات میں مدرسہ کھولا تھا، اور اسی مناسبت سے جلسہ کرنا چاہتے تھے، جس میں حضرت کو بلانا چاہتے تھے اس غرض کے لئے پہلے تو انہوں نے خط لکھا جس میں بڑے پرتکلف جملوں سے اصرار کیا اور لکھا کہ حضرت پہلی بار میں آپ کو آواز دے رہا ہوں محروم نہ فرمائیے گا، بعد میں وہ صاحب خود بھی تشریف لائے حضرت نے فرمایا یہ کون سے لکھنے کا انداز ہے؟ ہمیشہ سادے الفاظ استعمال کرنا چاہئے تصنع وتکلف سے بچنا چاہئے، میں ادب اور مضمون نگاری کو منع نہیں کرتا لکھنے کی مشق کرنا چاہئے، مضمون نگاری بھی سیکھو، یہ بھی ضروری ہے لیکن تصنع وتکلف سے احتراز کرو، دل کی حالت بدلو، سب کچھ زبان دانی ہی سے نہیں ہوتا۔ ایک بزرگ شیخ حمید الدین گذرے ہیں اَن پڑھ تھے لیکن بڑے بڑے علماء ان کے پاس جاکر استفادہ کرتے تھے، اصل چیز تعلق مع اللہ ہے اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرو۔سفر میں بھی کتابوں کااحترام فرمایا جب میں سفر میں جاتا ہوں اور کوئی دینی کتاب جھولے (تھیلے) میں رکھی