مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
خواجہ مجذوب کا شعر ہے ؎ دلا نفس کا اژدہا ابھی مرا نہیں ادھر غافل ہوا نہیں ادھر اس نے ڈسا نہیںیہی تو کمال ہے کہ غصہ آئے پھر صبر وسکوت کرے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بعض لوگوں نے آپ پر اعتراض کیا تھا کہ جہاد میں جو مال غنیمت تقسیم کیا گیا ہے اس میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت تکلیف ہوئی، آپ نے فرمایا کہ اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے وہ اس سے بھی زائد تکلیف پہنچائے گئے تھے۔ حضرت نے فرمایا کہ اعتراض سے کوئی بچا نہیں ، رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا کون ہوگا، آپ پر بھی لوگوں نے اعتراض کیا، پھر جب حضور سب سے بڑے اور امتی سب سے ادنیٰ، اگر کسی امتی پر اعتراض کیا جائے یا اس کو سخت باتیں کہہ دی جائیں تو اس کو بھی وہی کرنا چاہئے جو حضور نے کیا ، حضور ﷺ نے موسیٰ علیہ السلام کا قصہ اور ان کی تکلیف اوراس پر صبر کو یاد کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ سے ہم کو سبق سکھلا دیا کہ جب تم پر ایسے حالات آئیں تو تم کو بھی یہی کرنا چاہئے کہ اپنے پہلوں کے حالات دیکھو ان کے واقعات سے عبرت حاصل کرو، انہوں نے کس طرح صبر کیا تم بھی اسی طرح صبر کرو، انتقام نہ لو، اپنے جذبات کو ابھارو نہیں ، طبعی طور پر غصہ ضرور آتا ہے تکلیف بھی ہوتی ہے لیکن جب ہی تو صبر ہوتا ہے، اور اسی پر تو اجر کا وعدہ ہے، ترقی تو اسی سے ہوتی ہے، ورنہ پھر ثواب ہی کس چیز کا، اگر غصہ ہی نہ آئے تو پھر کون ساکمال ہے، کمال کی بات یہ ہے کہ غصہ آئے پھر صبر کرے، ایک نامرد کہے کہ میں بدنگاہی بدکاری نہیں کرتااس میں اس کا کیا کمال؟کمال تو یہ ہے کہ قوت ہو، تقاضہ ہو پھر بھی اپنے کو بچالے، چھوٹوں کا کام تو اعتراض کرنا ہے بڑوں کا کام وہ ہے جو بڑے کرکے دکھلا گئے، یعنی صبر کرنا اور انتقام نہ لینا، اللہ ہم سب کو توفیق نصیب فرمائے۔