مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
اپنی تمام گاڑیاں بالکل فری کردیں اس وقت ان کی بارہ گاڑیاں چلتی تھیں چاروں طرف بسیں پھیلادیں جس کو آنا ہو آئے کوئی کرایہ نہیں ، پھر کیا تھا کھچا کھچ بھر ے ہوئے آدمی گاڑیوں سے آنے لگے اطراف اور دیہات سے کافی لوگ جمع ہوگئے۔ ان کم بختوں نے ایک شرارت اورکی کہ عین وقت میں جب کہ مجمع کافی ہوچکا تھا جامع مسجد کا سارا پانی جوٹنکیوں میں بھرا ہوا تھا سارا پانی چپکے سے بہادیا، اب پینے کے لئے پانی نہیں ، بڑی سخت پریشانی ہوئی کہ اب کیا کرنا چاہئے فوراً کچھ لوگوں نے یہ تدبیر اختیار کی شہر سے گھروں گھروں سے رسی بالٹی مانگ لائے اور کنویں سے پانی کھیچنا شروع کیا، دیہات کے لوگ تو تھے ہی تھوڑی دیر میں دیکھا کہ پوری ٹنکی اور خالی ڈرم سب بھر گئے، اس طرح پانی کا انتظام ہوگیا، اس کے بعد جو قاری صاحب کا بیان ہوا ہے واقعی وہ بیان تھا، اور قاری صاحب کا تو ہر بیان عجیب وغریب ہوتا تھا۔ ( یہ ہے اللہ کی کھلی نصرت وحمایت حضرت اقدس دامت برکاتہم تو اعتکاف میں بیٹھے ہوئے تھے اسی وقت آپ کو قاری صاحب کی تشریف آوری کی اطلاع ملی، اعتکاف کی حالت میں حضرت نے اللہ سے دعاء مانگی گریہ وزاری کی اللہ نے غیب سے کس طرح انتظام فرمایا اور مخالفین کی سازشوں کو کس طرح ناکام کیا واقعۃً دعاء اور اخلاص میں بڑی طاقت ہے سچ ہے ’’مَنْ کَانَ للّٰہ کَانَ اللّٰہ لَہٗ ،جو اللہ کا ہوجاتا ہے اور جس کا ہر کام اللہ واسطے ہوتا ہے اللہ اس کا ہوجاتا ہے اور اس کے سارے کام بناتا ہے۔)حج بازی اسی ضمن میں شمیم محسن صاحب کے والد صاحب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بڑے عجیب وغریب آدمی تھے، بڑے مخیر تھے، رزق حلال کا اہتمام تھا، بھونسے کی تجارت کرتے تھے، اور بھونسہ بیچ کر حج کرنے جاتے تھے، کہا کرتے تھے کہ کسی کو کسی چیز کا شوق ہوتا ہے وہ اس میں بازی لگا تا ہے اور شوق پوراکرتا ہے، کسی کو کبوتر بازی،تیتر بازی پتنگ بازی کا شوق ہوتا ہے اور وہ اس میں بازی لگاتا ہے ہم کو حج کا شوق ہے ہم حج کی بازی