مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
بات بیان کریں اور تم کو وہ بات معلوم بھی ہو تو اس طرح نہ کہنا چاہئے کہ جی حضرت مجھے بھی یہ معلوم ہے، وہ جو کچھ کہیں اس کو سن لے، ایسا بن جائے جیسے معلوم ہی نہیں ، یہ سب باتیں ہیں جن کی وجہ سے استاد کے دل میں شاگردوں کی محبت اور عظمت پیداہوتی ہے ، اور اگر کوئی بات کہنا بھی ہو تو اس طرح کہے کہ حضرت یہ بات میں اس طرح سمجھا ہوں حاشیہ میں اس طرح لکھا ہے کیا میں صحیح سمجھا ہوں ؟ انداز بالکل متواضعانہ اور عاجزانہ ہونا چاہئے۔ صحابۂ کرام کا یہی طریقہ تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بات ان سے دریافت فرماتے تھے، تو علم کے باوجود محض ادب وعظمت کی وجہ سے یہ فرماتے تھے ’’اللّٰہ ورسولہ اعلم‘‘ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا کہ یہ کون سا مہینہ ہے، کون سا دن ہے، کون سا مقام ہے، ہرایک کے جواب میں صحابہ نے یہی فرمایا ’’اللّہ ورسولہ اعلم‘‘ کیا صحابہ کرام کو دن معلوم نہ تھا کہ آج کو ن سا دن ہے اور کون سا مہینہ ہے، کیا ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ کون سا مقام ہے، مگر پھر بھی اپنے علم کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کے سامنے ہیچ سمجھا کہ ہم جو جانتے ہیں غلط جانتے ہیں ، جوہم نے سمجھا ہے غلط سمجھا ہے، ہماری آنکھیں غلط دیکھ سکتی ہیں ، ہم غلط سمجھ سکتے ہیں ، ہمارا علم بھی غلط ہوسکتا ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو بات فرمائیں گے وہ بالکل صحیح ہوگی، ہماری آنکھ تو غلط دیکھ سکتی ہے، لیکن آپ کا فرمان غلط نہیں ہوسکتا، اگر آپ دن کو رات کہیں تو وہ رات ہی ہوگی گو ہماری آنکھیں دن دیکھ رہی ہوں ،اسی لئے صحابہ کرام اپنے علم کو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے علم کے سامنے کچھ نہ سمجھتے تھے، اور فرماتے تھے’’اللّہ ورسولہ اعلم‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ بڑوں کے سامنے اپنی بڑائی اور علم کااظہار نہیں کرنا چاہئے کہ ہم بھی یہ جانتے ہیں ، اور اگر جانتے بھی ہوں تو بھی اس کو ظاہر نہ ہونے دیں ، ادب کا تقاضہ یہی ہے، دوسرے ممکن ہے کہ ہم غلط سمجھے ہوں ۔ (لیکن اگر بڑے کوئی بات دریافت کریں ، خود پوچھیں اور بولنے کا حکم دیں اس وقت ادب سے بولنا اور صحیح صحیح جواب دینا ضروری ہے ورنہ یہ بہت بڑی بے ادبی ، حماقت، جہالت، اور نافرمانی ہوگی لان الأ مرفوق الادب