مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
تھا، محلہ کی دوقدم پر مسجد لیکن مسجد میں نماز نہیں پڑھ سکتے تھے ایک مرتبہ بعض جماعت کے لوگ نماز پڑھ کر نکلے تو ان کو اس قدر مارا گیا کہ ایک صاحب کا ہاتھ ٹوٹ گیا بدن زخمی ہوگیا، حضر ت کے متعلقین ومریدین نے اپنے مکان کے احاطہ میں جلسہ کا نظام بنایا اور اپنی علیحدہ مسجد تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا، جلسہ کی شہرت ہوئی حضرت کانام سن کر اطراف اور دور دراز سے کافی لوگ جمع ہوگئے، مشورہ ہوا تو حضرت نے مسجد بنانے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ اتنے قریب مسجد موجود ہے ایک وقت آئے گا انشاء اللہ مسجد آپ حضرات کے قبضہ میں ہوگی ابھی آپ لوگ گھر ہی پر نماز پڑھتے رہیں ، البتہ مدرسہ بنانا مناسب ہے ، چنانچہ مکتب کی شکل میں ایک مدرسہ قائم ہوگیا۔ عشا ء کے بعد حضرت کا پروگرام ہونا تھا دو منزلہ مکان کی چھت پر مستورات کا نظم تھا نیچے میدان میں مردوں کا کافی مجمع تھا، جلسہ کا آغاز ہوا ، قاری صاحب نے قرآت فرمائی، ایک مقرر صاحب نے تقریر شروع فرمائی گرمی کا موسم تھا پنکھا چل رہا تھا کہ یکایک لائٹ گل، اندھیرا چھا گیا اور چاروں طرف سے پتھروں کی بارش ہونے لگی، مکا ن کی چھت پر عورتوں کے مجمع میں بھی پتھر برسائے گئے، نشانہ لگاکر ٹھیک اسٹیج پر اور حضرت کو نشانہ بناکر پتھر برسائے گئے، ایک اللہ کا بندہ حضرت کے اوپر جھک گیا، اور جھکاہی رہا جتنے پتھر آتے اس شخص کی پیٹھ پر گرتے اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت کی حفاظت فرمائی، کافی دیر تک پتھرائو ہوتارہا، ظالم لوگ مسجد کی چھت پر سے پتھر برسارہے تھے، جلسہ تو درہم برہم ہوگیا، سارا مجمع منتشر ہوگیا، بعضـ جوا ں مرد بہادر لوگوں نے کہا کہ اب تو ہم جلسہ ضرور کریں گے، ہم بندوق لے کر آرہے ہیں دیکھیں کون منع کرتا ہے حضرت نے اس کو منع فرمایا اور کہا کہ انشاء اللہ یہ ہماری فتح مبین ہوگی، مجمع منتشر ہوجانے کے بعدحضرت نے موجود لوگوں کو ایک کمرہ میں جمع فرمایا اور مختصر تقریر فرمائی کہ۔ ’’ ہم کھانے پینے کی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی سنتیں ادا کرتے ہیں ، پتھر کھانا یہ بھی تو ایک طائف کی سنت ہے، اللہ کا شکر ہے کہ آج اس نے اس سنت کی ادائیگی