مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اپنے پروردگار کی عبادت کرے، دین تو نا م ہے اللہ کے سامنے رونے اور گڑگڑانے کا، اللہ کو یاد کرنے کا جس میں خشوع خضوع ہو، دین نام ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت وپیروی کرنے کا ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اگر یاد منا نا ہے تو اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت آپ کے حالاتِ زندگی پڑھیں ، آپ کی زندگی کو اور آپ کے صحابہ کے اسوہ کو سامنے رکھ کر اپنی زندگیوں کو دیکھیں اور موازنہ کریں کہ وہ اللہ کے بندے کیسے تھے، اور کیا کرکے چلے گئے اور ہم کیا کررہے ہیں ، قرآن شریف پڑھیں ، ایصال ثواب کریں ان کی زندگی کے ہر عمل کو دیکھ کر سبق حاصل کریں دین تو یہ ہے۔ یہ کھیل کود، تماشہ، سجاوٹ، چیخ پکار، ہلڑ بازی، سجاوٹ، نمائش ریاکاری، اس کا نام کہیں دین ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ان سب چیزوں کو مٹانے کے لئے آئے تھے، یہ تو کفار کا طریقہ تھا، اور آج بھی یہ طریقہ ان ہی لوگوں کا ہے جس کو مسلما نوں نے جہالت کی وجہ سے اختیار کرلیا ہے، کوئی پوچھے ان لوگوں سے جو اس قسم کے مجمعوں اور نمائشوں میں شریک ہوتے ہیں کہ کتنے لوگ نماز پڑھتے ہیں کتنے مرتبہ درود شریف پڑھتے ہیں ، کتنی تلاوت کرتے ہیں ۔ دین کے نام پر لاکھوں روپیہ برباد کیا جارہا ہے مہینوں پہلے اس کی فکر، اور تیاری اور چندہ شروع ہوجاتا ہے، بعض جگہ سال بھر تک اس کا چندہ ہوتا ہے، کوئی پوچھے ان سے کہ جتنا چندہ ہوتا ہے کتنا وہ خرچ کرتے ہیں او ر کتنا ان کے پیٹ میں جاتا ہے، بس دین اور حضور کے نام پر چندہ ہورہا ہیء حاصل کچھ بھی نہیں ، ارے یہی ہزاروں لاکھوں روپئے جمع کرکے اگر غریبوں بیوائوں کی مدد اور ان کے نکاح میں خرچ کیا جائے تو کتنا ثواب ملے گا، کتنی بڑی خدمت ہو لیکن ان باتوں کو کہے کون؟ تعجب ہے کہ ان حق باتوں کو جو کہے وہی مطعون ہو اسی کو بدنام کیا جائے، اسی کی مخالفت کی جائے، اسی وجہ سے امت میں جو حالات پیدا ہورہے ہیں اور جیسا کچھ نقصان ہورہا ہے سب نگاہوں کے سامنے ہے، سب بھُگت رہے ہیں لیکن پھر بھی آنکھیں نہیں کھلتیں ، بس اللہ ہی ہدایت دے۔