حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 2 |
یات طیب |
|
تقاریر آپ کی زندگی مابہ الامتیاز مقام تھا۔ وعظ و خطاب کا یہ ملکۂ راسخہ اور قوت بیان حضرت حق جل مجدہٗ کی عطا و وہبت خاص تھی۔ جس سے آپ کو سرفراز فرمایا گیا تھا۔ آپ صرف شعلہ بیان مقرر اورپرجوش خطیب ہی نہ تھے بلکہ آپ کے لب و لہجہ میں شہد کا سا مٹھاس، شبنم کی سی نمی، پھولوں کی سی خوشبو کا حسین سنگم تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جسمانی اور روحانی نسبت قاسمی آپ کے اندر متصرف تھی۔ تقریر میں بے ساختگی اور روانی و بے تکلفی اور تسلسل انتہائی درجہ درآمد تھی۔ ایسا لگتا تھا گویا ایک رواں سیلاب ہے جو فراز سے نشیب کی طرف یکسانیت و سکون کے ساتھ بہہ رہا ہے اور مجمع پر سحر انگیزی کی یہ حالت کہ آواز تو کیا معمولی حرکت بھی نہیں ہوتی تھی۔ گویا سامنے کھلی ہوئی کتاب ہے اور آپ اس کو پڑھ رہے ہیں ۔ چنانچہ ایک ایسا دلچسپ و دل آویز اور دلکش و روح پرور ماحول پیدا ہوجاتا تھا کہ پیچیدہ اور الجھے ہوئے مسائل بھی سامعین کے قلب و دماغ میں بآسانی موجزن ہوجایا کرتے۔ خداوند قدوس نے آپ کو اعلیٰ علمی و انتظامی اور فکری صلاحیتیں مرحمت فرمائی تھیں ۔ علماء ہند کی امانت و وراثت ام المدارس دارالعلوم دیوبند کے مسند اہتمام پر ساٹھ سال کے عرصۂ دراز تک فائز رہ کر جس شان و شوکت و عزمت کے ساتھ چلایا اور مقبولیت و شہرت کے جس مقام رفیع سے سرفراز فرمایا اس میں آپ کی انتظامی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ تحمل و تواضع اور تدبر کو بڑا دخل ہے، دارالعلوم کو اپنی معنوی اولاد کی طرح لے کر چلے تو اساتذہ و کارکنان کے عملہ کو انہوں نے اپنے خاندان کا فرد سمجھا، نہ کوئی ان سے دور تھا اور نہ کسی کو ان کی ذات سے کوئی خوف تھا۔ دیکھنے کو تو وہ ایک منحنی اور نحیف و نزار سے انسان تھے مگر عز و حوصلہ اور ارادے و ہمت کی ایک ایسی چٹان تھے جس سے سمندر کی بپھری اور بے قابو موجیں بار بار ٹکرائیں اور مایوس ہو کر لوٹ گئیں ۔ الحاصل مفادات دارالعلوم کا تحفظ ان کی زندگی کا مقصد تھا۔ کوئی شخص ان کی زندگی کا کتنے ہی مخالفانہ ارادے سے مطالعہ کرے لیکن ان کی آپ بیتی کے چند لرزہ خیز واقعات اس درجہ واضح اور قطعی ہیں کہ ممکن نہیں ان سے انکار کیا جاسکے۔ ازاں جملہ یہ کہ جو جماعتیں ان کی مخالف تھیں حکیم الاسلامؒ نے ان کے ایک ایک فعل کا جواب صبر و تحمل، راستی و دیانت اور عفو و بخشش کے اعلیٰ نمونہ سے دیا۔ مظلومی میں صبر، مقابلے میں عزم، معاملہ میں راست بازی، طاقت و اختیار میں درگذر، تاریخ انسانیت کے وہ نوادر ہیں جو کسی ایک زندگی کے اندر اس طرح عموماً جمع نہیں ہوتے۔ خیر! میری چند شکستہ سطور کا مقصود تو حضرت حکیم الاسلامؒ کی تصنیفی و تالیفی خدمات کا عکس کھینچنے کی کوشش کی، اپنی سی کوشش ہے، حضرت کی زندگی کا یہ قابل رشک پہلو جس کی مختصر مگر جامع ترین اور مبسوط ترجمانی علمائے دیوبند کے اویسی النسبت مسلم بزرگ حضرت اقدس مولانا سید اصغر حسین میاں صاحب علیہ الرحمۃ اور