حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 2 |
یات طیب |
|
کئے جدھر ان کے استاد کا مکان یا رہائش گاہ تھی۔ عقیدت و احترام کے ان ہی پاکیزہ جذبات کی بنا پراسلامی تاریخ میں ایسی نادرہ روزگار شخصیتیں ملتی ہیں جن کا بدل یہ دنیاپیش کرنے سے عاجز ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد حضرت امام محمدؒ اور حضرت امام یوسفؒ کا جواب کون پیش کرسکتا ہے یا ابن تیمیہؒ کے شاگرد ابن قیمؒ کا بدل کون لاسکتا ہے، خود ہندوستان میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے شاگرد مولانا عاشق علی شاہ اسمٰعیل شہیدؒ کی مثال کہاں مل سکتی ہے یا ماضی قریب میں بانی دارالعلوم دیوبند حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے شاگرد مولانا فخر الحسن گنگوہیؒ، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، مولانا عبدالرب صاحبؒ بانی مدرسہ عبدالرب ، کشمیری گیٹ، دہلی کے علوم و کمالات کو چیلنج کرنے کی ہمت کس میں ہے غرض کہ ہر دور اور ہر زمانے میں ایسی صاحب کمال اور صاحب علم ہستیاں موجود ہیں جو خود بھی بلند مراتب پرفائز تھیں اور جن کے شاگردوں نے بھی علم کے میدان میں نمایاں اور گرانقدر خدمات انجام دیں ۔ دارالعلوم دیوبند ہندوستان میں گذشتہ ایک صدی زائد سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا فریضہ انجام دے رہا ہے، اس ادارے نے اپنی زندگی میں جو عظیم افراد پیدا کئے ہندوستان کی تاریخ میں اس کی مثال کسی دور میں نہیں ملتی، ایک سے ایک بڑھ کر عظیم ہستی اور صاحب علم یہاں ملتا اور نظر آتا ہے، لیکن اس عظیم علمی مجلس میں مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہدارالعلوم دیوبند نے اپنے دور کی ایک ایسی شخصیت کو جنم دیا کہ جس پر وہ اپنی زندگی کے آخری سانسوں تک بجا طور پر فخر کرسکتا ہے، امام العصر حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ کی شخصیت کمالات علمی اور خدمات کا ہر طبقہ معترف ہے آپ اپنی علمی عظمت کی بناء پر جو مقام رکھتے ہیں وہ تو ظاہر ہے مگر ایک وصف آپ کو اکابردارالعلوم دیوبند میں بہت ممتاز اور نمایاں کرتا ہے کہ آپ کے حلقۂ درس اور آغوش علم سے ایسے افراد اور شاگرد سامنے آئے جنھوں نے دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچ کر علم کے چھوٹے بڑے ہزاروں چراغ روشن کئے بلاشبہ گذشتہ ۳۵؍۴۰سال کے عرصہ میں علماء کا جو طبقہ ہندوستان اور دیگر ممالک میں نمایاں اور ممتاز رہا اس کو حضرت کشمیریؒ کی شاگردی کا فخر حاصل ہے، حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ،مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ، رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ، مفکر ملت مفتی عتیق الرحمن عثمانی ؒ، مولانا محمد یوسف بنوریؒ، مولانا سعید احمد اکبرآبادیؒ، مولانا محمد شفیع دیوبندیؒ، مولانا حامد الانصاری غازی، مولانا بدر عالم میرٹھیؒ، مولانا منظور نعمانی، مولانا محمد میاں دیوبندیؒ، مولانا محمد ادریس کاندھلوی، مولانا سید احمد رضا، مولانا محمد انوری فیصل آباد، مولانا غلام اللہ خانؒ، مفسر القرآن مولانا محمد چراغ گوجرانوالہ، مولانا قاضی شمس الدین، مولانا قاضی زین العابدین، مولانا شمس الحق افغانی، علامہ محمد