حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 2 |
یات طیب |
|
بندھوائی،اپنی کتابوں پر آپ سے تقریظیں لکھوائیں ، آپؒ کی شیریں بیانی سے اپنے جلسوں کی رونق بڑھائی،وہی آپؒ کے خلاف طوفان اٹھائیں گے جاں گداز آواز ے اور روح فرسا طعنے کسیں گے مخالفتوں ، ایذارسانیوں ، دشنام طرازیوں اورالزام تراشیوں کا ایسا شیطانی چکر چلائیں گے کہ چشم فلک حیران، اخلاق وآداب شرمسار اور تہذیب وشائستگی آب آب ہوکر رہ جائیں اور اس طرح گویا حق وفاداری ادا کریں گے۔ شیخ سعدیؒ نے بہت پہلے کہا تھا ؎ یا وفا خود نبود در عالم یامگر کس دریں زمانہ نکرد کس نیا موخت علم تیرا زمن کہ مرا عاقبت نشانہ نکرد عزیمت پناہ!آپ کے دور ِ ضعیفی اور پیرانہ سالی میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آپ کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا، آپ کے لیے دیدہ ودل فرشِ راہ کیے جاتے۔ آپ کی طویل اور زریں خدمات کا بھرپور اعتراف کیا جاتا۔ عقیدت ومحبت کے پرُ خلوص نذرانے پیش کیے جاتے اور اعزاز واکرام کے بلند ترین منصب پر آپ کو فائز کیا جاتا۔اس کے برخلاف ناشکری، ناسپاسی اور احسان نا شناسی کے ایسے نفرت انگیز نظارے دکھائے گئے اور دنائت ِ طبعی اور خست ِ جبلی کے ایسے مکروہ مظاہرے کیے گئے کہ نبض عالم تھم تھم گئی لیکن آفریں ہے آپ کی ہمت مردانہ پر کہ ایک طرف تن تنہا آپ کی نحیف ونزار ذات اور دوسری طرف ہر قسم کے اسلحوں اور ہتھیاروں سے لیس بھیانک لشکر لیکن آپ نے سپر نہیں ڈالی، ہار نہیں مانی، جان سے جانا گوارا فرمالیا لیکن آن نہیں چھوڑی، بلاشبہ آپ نے عین میدانِ جنگ میں جان دی ہے اور علم کے راستے میں آپ نے جام شہادت نوش فرمایا ہے۔ حکیم الاسلام! ہدیۂ مبارک باد قبول فرمائیے۔ آپ شہید ِ علم بنے، بیشک شہید ِعلم! ؎ جان ہی دیدی جگرؔ نے آج پائے یار پر عمر بھر کی بے قراری کو قرار آہی گیا یہ رتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا ہر مدعی کے واسطے دارورسن کہاں ممکن ہے کہ بعض نافہم بغلیں بجائیں اوران کی کوتاہ بینی اور کم نگہی اس میں اپنی کامیابی کا سراب دیکھے لیکن دنیا جانتی ہے کہ سنگ ریزوں اور جواہر پاروں کا کوئی مقابلہ نہیں ۔بے قیمت پتھر سونے کے قیمتی پیالے کو چکنا چور کرسکتا ہے لیکن اس دنیا پر نہ پتھر قیمتی بن سکتاہے اور نہ سونا بے قیمت اسی جہاں دیدہ اور سردوگرم چشیدہ سعدی نے کہا تھا ؎ سنگِ بدگوہر کاسۂ ذریں شکند قیمت سنگ نیفزائد وزرکم نہ شود