حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 2 |
یات طیب |
|
شرعی ثابت ہوجائے گی اور لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ آیتوں کا ایک مجموعہ بن جائے گا جو کلمہ کے مادہ کے بارے میں قرآنی نص ثابت ہوا ہو اور اس کی ہیئت ترکیبی کے بارے میں قطعی دلالت کے ساتھ دال ثابت ہو جس کو یا تو نص ہی کہا جائے گا یا ماخذ شمار کیا جائے گا جو ماخذ قریب ہونے کی وجہ سے نص ہی کے قریب قریب ہوگا۔ حضرت حکیم الاسلامؒ نے اصول بحث کرکے کلمہ کی موجودہ ہیئت ترکیبی کی شریعت کو ثابت کرکے اس کے بہت سے شواہد بھی احادیث سے پیش کئے ہیں پھر آپ نے بدلائل قطعیہ یہ ثابت کیا ہے کہ کلمہ کے دونوں جزوں کو علیحدہ نہیں کیا جاسکتا، اس کے لئے بھی آپ نے قرآن ہی سے استدلال کیا ہے، ایک آیت سے اخلاص عبادت اور دوسری آیت سے اتباع سنت کے وجوب کو ثابت کرتے ہوئے آپ نے تحریر فرمایا کہ دونوں مطلوب قرآنی لازم و ملزوم ہیں ، اخلاصِ عبادت بغیر اتباع سنت کے اور اتباع سنت بغیر جذبہ اخلاص عبادت کے وجود میں نہیں آسکتا ہے، اگر عبادت میں اخلاص نہ ہو تو وہیں سے شرک کی سرحد شروع ہوجائے گی اور اگر اتباع سنت کو ترک کردے تو وہیں سے بدعت کا آغاز ہوجائے گا، شرک و بدعت ہی دو اصلیں ہیں جو دین کی عمارت کو منہدم کرتی ہیں اس لئے اخلاص عبادت اور اتباع سنت کا اقرار و اعتراف لازم و ملزوم ہوگئے اور جب دو حقیقتوں میں تلازم ہے تو ان کی تعبیروں میں تلازم ضروری ہو جاتا ہے، کیوں کہ معانی کا تلازم تعبیرات کے باہمی تلازم کے بغیر ممکن ہی نہیں ،ظاہر ہے کہ اخلاص کی تعبیر جو شرک کی ہر قسم سے مانع ہے وہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے اور اتباع سنت کی وہ تعبیر جو ہر قسم کی بدعت سے مانع ہو محمد رسول اللہ ہے۔ اب خواہ ان تعبیرات کو شہادت کے الفاظ سے ادا کیا جائے یا قرار و قول وغیرہ سے یا بلا کسی خاص لفظ کے اضافہ کے صرف اصل الفاظ میں ادا کیا جائے۔بہرحال لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں تلازم باہمی ثابت ہو اور حاصل تلازم اور حاصل جامع وہی کلمہ طیبہ لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ نکلتا ہے۔ حضرت حکیم الاسلامؒنے بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے کلمہ طیبہ کی وجہ تسمیہ کو آیت قرآن سے نکالا اور متعدد احادیث سے کلمہ کی موجودہ ہیئت ترکیبی کو ثابت کیا ہے جن میں اسی جمع و ترتیب کے ساتھ یہ کلمہ مذکور ہے، کلمۂ طیبہ کے شرعی وجود کو ثابت کرنے کے بعد کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت کے عمل استعمال کا صحیح معیار اور فرق مواقع استعمال کی تفصیل بھی پیش کردی ہے اور بتایا ہے کہ جب اس کلمہ سے عہد و میثاق اور اعلان شہادت مقصود ہوتا ہے تو اس کے دونوں جملوں کو کلمات شہادت ’اُقر، اشہد‘ وغیرہ سے مزین کرکے استعمال کیا جاتا ہے اور جب کلمہ کا قول محض یا تکلم محض، ذکر خالص، منظور ہوتا ہے تو اسے بغیر ان حروف روابط کے خالص قرآنی الفاظ میں ادا کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب کسی کو دائرۂ اسلام میں داخل کرتے ہیں چوں کہ