کتاب الجنائز |
|
فتاویٰ بزازیہ میں حضرت محمد ابن شہاب البزّازفرماتے ہیں : میّت کے گھر والوں کی جانب سے پہلے دن اور تیسرے دن یا ایک ہفتہ بعد کھانا بنانا(جیساکہ لوگ معاشرے میں کرتے ہیں)مکروہ ہے۔(بزازیہ ، بحوالہ شامیہ:2/240)تعزیت کی دعاء : اِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى ۔ ترجمہ: بے شک اللہ ہی کے لئے ہے جو اُس نے لیا اور اُسی کے لئے ہے جو اُس نے دیا ، اور ہر چیز کی اللہ تعالیٰ کے یہاں ایک مقررہ مدت ہے ۔(بخاری :7377) أَعْظَمَ اللَّهُ أَجْرَك، وَأَحْسَنَ عَزَاءَك، وَغَفَرَ لِمَيِّتِك۔اللہ تعالیٰ تمہیں خوب عظیم اجر عطاء فرمائے، اچھے صبر کی توفیق بخشے اور تمہارے مرحوم کی مغفرت کرے۔(شامیہ:2/240)کیا میت کیلئے ہاتھ اُٹھاکر دعاء کرناجائز ہے؟ دعاء کرتے ہوئے آپﷺسے ہاتھوں کا اُٹھانا ثابت ہے ،نیز خاص میّت کیلئےدعاء کرتے ہوئے بھی آپﷺسے ہاتھوں کا اُٹھانا ثابت ہے اِس لئے اس کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ تعزیت کے موقع پر ہاتھ اُٹھاکر دعاء کی جاسکتی ہے ،اِس میں کوئی حرج نہیں ۔ میت کیلئے ہاتھ اُٹھاکر دعاء کرنے کی روایت یہ ہے : حضرت ابوموسیٰ اشعریروایت کرتے ہیں کہ جب نبی ﷺ غزوہ حنین سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺنے حضرت ابوعامر کو ایک لشکر کا سردار بنا کر قوم اوطاس کی جانب بھیجا ،ان کا مقابلہ درید بن