کتاب الجنائز |
|
کی دعاء کرنا نہایت مناسب اور اُس کیلئے فائدہ مند بھی ہے ، چنانچہ بہت سی روایات میں نبی کریمﷺ کے قبرستان جانے کی دعاء میں سلام کے الفاظ ذکر کیے گئے ہیں : حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺمدینہ منوّرہ کے قبرستان سے گزرے تو آپ اُن کی جانب متوجہ ہوئے اوریہ اِرشاد فرمایا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ القُبُورِ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ، أَنْتُمْ سَلَفُنَا، وَنَحْنُ بِالأَثَرِ»۔اے قبر والو! تم پر سلامتی ہو،اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں معاف کرے،تم ہم سے پہلےجانے والے ہو اور ہم تمہارے پیچھے آنے والے ہیں۔(ترمذی:1053) حضرت ابوہریرہفرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺایک دفعہ قبرستان کی جانب نکلے اور آپ نے یہ دعاء پڑھی: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ»تم پر سلامتی ہو اے ایمان والو! اور بیشک ہم بھی تمہارے ساتھ لاحق ہونے والے ہیں۔(مسلم:975)اہلِ قبور کیلئے مغفرت کی دعاء کرنا: حضرت ثوبانفرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے اِرشاد فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا پس (اب تمہیں اِجازت ہے)تم قبروں کی زیارت کیا کرو اور مُردوں کی زیارت اِس طرح کرو کہ اُن کیلئے رحمت کی دعاء اور اِستغفار کیا کرو۔إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَزُورُوهَا، وَاجْعَلُوا زِيَارَتَكمْ لَهَا صَلَاةً عَلَيْهِمْ واسْتِغْفَارًا لَهُمْ۔(طبرانی کبیر:1419) حضرت عائشہ صدیقہفرماتی ہیں کہ جب حضور نبی اکرم ﷺ میرے ہاں قیام فرما ہوتے تو (اکثر) آپ ﷺ رات کے آخری حصہ میں بقیع کے قبرستان میں تشریف لے جاتے اور (قبر والوں سے خطاب