حصن حصین مترجم اردو - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ضرور دور کرلینا چاہیے۔ ۴۔ اور اگر کسی جگہ بیٹھ کر ذکر کررہا ہو تو رخ قبلہ کی طرف ہونا چاہیے۔ ۵۔ اور عاجزی و انکساری، سکون و اطمینان، وقار و اہتمام اور دل کی پوری توجہ کے ساتھ ذکر کے لیے بیٹھے۔ ۶۔ اور جو بھی ذکر کرے، اس کے معنی و مفہوم کو اچھی طرح سمجھے اور اُن میں غور و فکرکرے۔ ۷۔ اور اگر کسی ذکر کے معنی نہ جانتا ہو تو (کسی عالم سے) دریافت کرلے اور سمجھ لے۔ ۸۔ اور تعداد زیادہ کرنے کے خیال سے جلد بازی نہ کرے، اسی لیے علما نے کلمہ طیبہ کے ذکر میں لَا۔ٓ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ میں لَا۔ٓ کے مد کو خوب اچھی طرح کھینچنے (اور اِلَّا اللّٰہُ پر زور دینے) کو مستحب فرمایا ہے۔ ۹۔ اور جو بھی ذکر شارع ﷺ سے ثابت ہے، خواہ واجب ہو، خواہ مستحب، جب تک اُس کو زبان سے اِس طرح ادا نہ کرے کہ خود ۔ُسن لے، تو اُس وقت تک اُس کا کچھ اعتبارنہیں (یعنی دل ہی دل میں سوچنا ذکر نہیں کہلاتا)۔ ۱۰۔ اور سب سے زیادہ فضیلت والا ذکر قرآنِ عظیم ہے، بجز اُن اذکار کے جو شارع ﷺ سے خصوصیت کے ساتھ ثابت ہیں (کہ اُس جگہ وہی ذکر کرنا چاہیے جو آپ نے بتلایا ہے، مثلاً: رکوع میں آپ نے سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمُ بتلایا ہے اور سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعَلٰی، لہٰذا رکوع اور سجدہ میں یہی پڑھنا چاہیے۔ قرآن نہیں پڑھنا چاہیے۔ اسی لیے آپ نے رکوع اور سجدہ میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے)۔