حصن حصین مترجم اردو - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
(سب کچھ) جانتا ہے اور میں (کچھ) نہیں جانتا اور تو ہی تمام پوشیدہ (باتوں) کو خوب اچھی طرح جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تجھے معلوم ہے کہ یہ کام میرے حق میں میرے دین کے اعتبار سے، دنیا کے اعتبار سے اور انجام کے اعتبار سے یا میری دنیوی زندگی کے اعتبار سے اور اخروی زندگی کے اعتبار سے میرے حق میں بہتر ہے تو اس کو میرے لیے مقدر فرمادے اور آسان کردے۔ پھر اس میں میرے لیے برکت بھی عطا فرمادے اور اگر تجھے معلوم ہے کہ یہ کام میرے دین کے اعتبار سے، دنیا کے اعتبار سے اور انجام کے اعتبار سے یا میری دنیوی زندگی کے اعتبار سے اور اخروی زندگی کے اعتبار سے میرے حق میں بہتر نہیں ہے تو، تو اس کام کو مجھ سے دور کردے اور مجھے اس سے دور کردے اور جہاں بھی (جس کام میں بھی) میرے لیے بہتری ہو اس کو مجھے نصیب فرمادے اور پھرمجھے اس سے راضی کردے۔ فائدہ ۱: حدیث شریف میں آیا ہے کہ دونوں جگہ ہٰذَا الْاَمْرَ کی جگہ اپنی ضرورت کا نام لے (جس کے لیے استخارہ کرتاہے)۔ فائدہ ۲:بعض احادیث میں دونوںجگہ اِنْ ہٰذَا الْاَمْرَ کی جگہ اِنْ کَانَ ہٰذَا الْاَمْرَ (اگر یہ کام) آیا ہے۔ معنی دونوں کے ایک ہی ہیں، اسی طرح اخیر میں ثُمَّ اَرْضِنِیْ بِہٖ کے بجائے وَرَضِّنِیْ بِہٖ آیا ہے۔ معنی دونوں کے ایک ہیں، جس طرح چاہے پڑھ لے، اسی طرح دونوں جگہ فِیْ دِیْنِیْ کے بعد وھادی بھی آیا ہے۔ ۲۔ یا اِنْ ہٰذَا الْاَمْرَ کے بعد یہ الفاظ پڑھے: خَیْرًا لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَخَیْرًا لِّیْ فِیْ مَعِیْشَتِیْ وَخَیْرًا لِّیْ فِیْ عَاقِبَۃِ اَمْرِیْ فَاقْدِرْہُ لِیْ وَبَارِکْ لِیْ فِیْہِ، وَاِنْ کَانَ غَیْرُ ذٰلِکَ خَیْرًا لِّیْ فَاقْدِرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُمَا کَانَ وَرَضِّنِیْ بِقَدَرِکَ۔ اگر یہ کام میرے حق میں، میرے دین کے اعتبار سے بہتر ہو اور میری معیشت (دنیوی زندگی) کے اعتبار سے بہتر ہو اور میرے انجام کے اعتبار سے بہتر ہو، تو تو اس کو میرے لیے مقدر کردے اور اس میں برکت دے اور اگر اس کے سوا اور کچھ میرے لیے بہتر ہو تو میری بہتری جہاں بھی ہو (اور جس کام میں بھی ہو) مقدر فرمادے اورمجھے اپنی تجویز پر راضی فرمادے۔ ۳۔ یا اسی دعا کے ساتھ آخر میں وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کا اضافہ کردے۔ ۴۔ یا اَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ کے بعد یہ بھی کہے: